تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 862

تذکار مہدی — Page 307

تذکار مهدی ) 307 روایات سید نامحمود رکھتے تھے اور یہ لازمی بات ہے کہ جس کی طرف خاص توجہ ہو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔دوسرے وہ اگر چہ ہم سب سے چھوٹا تھا اور اس کی عمر بھی بہت تھوڑی تھی مگر بہت ذہین اور ذ کی تھا۔اس کی عمر سات سال کی تھی مگر وہ اسی عمر میں شعر کہہ لیتا تھا اور عام طور پر اس کے شعر کا وزن درست ہوتا تھا۔اس کی ذہانت اور حافظہ کی مثال یہ ہے کہ جب حضرت صاحب نے وہ بڑی نظم جس کی ردیف ” یہی ہے لکھی۔تو ہم سب کو فرمایا کہ تم قافیہ تلاش کرو۔اس نے ہم سب سے زیادہ قافیہ بتلائے جن میں بہت سے عمدہ قافیہ تھے۔جب وہ مرض الموت میں گرفتار ہوا تو حضرت صاحب با وجود تالیف و تصنیف میں مصروف رہنے کے شب و روز اس کے معالجہ میں لگے رہتے حتی کہ میں رات کے گیارہ گیارہ بجے سوتا تو آپ جاگ رہے ہوتے اور جب کبھی آنکھ کھلتی تو آپ جاگے ہوتے حیرت ہوتی تھی کہ آپ سوتے کس وقت ہیں۔اور مرغیاں ذبح ہوگئیں خطبات محمود جلد اول صفحہ 78-77) | آج سے 38 سال قبل ایک واقعہ یہاں ہو ا تھا ہمارا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کا نام مبارک احمد تھا اس کی قبر بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار کے مشرق کی طرف موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ بہت ہی پیارا تھا مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے ہوتے تھے ہمیں مرغیاں پالنے کا شوق پیدا ہوا۔کچھ مرغیاں میں نے رکھیں ، کچھ میر محمد الحق صاحب مرحوم نے رکھیں اور کچھ میاں بشیر احمد صاحب نے رکھیں اور بچپن کے شوق کے مطابق صبح ہی صبح ہم جاتے مرغیوں کے ڈربے کھولتے۔انڈے گنتے اور پھر فخر کے طور پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے کہ میری مرغی نے اتنے انڈے دیئے ہیں اور میری نے اتنے ہمارے اس شوق میں مبارک احمد مرحوم بھی جا کر شامل ہو جاتا۔اتفاقاً ایک دفعہ وہ بیمار ہو گیا اس کی خبر گیری سیالکوٹ کی ایک خاتون کرتی تھیں جن کا عرف دادی پڑا ہوا تھا ہم بھی اسے دادی ہی کہتے اور دوسرے سب لوگ بھی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اسے دادی کہنے پر بہت چڑا کرتے تھے۔مگر اس لفظ کے سوا شناخت کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا اس لئے آپ بجائے دادی کے انہیں جگ دادی کہا کرتے تھے۔جب مبارک احمد مرحوم بیمار ہو ا تو دادی نے کہہ دیا کہ یہ بیمار اس لئے ہوا ہے کہ مرغیوں کے پیچھے جاتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام