تذکار مہدی — Page 306
تذکار مهدی ) 306 ☀ روایات سید نا محمود لائیں اور اس خیال سے کہ مبارک احمد کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت صدمہ ہوگا۔باوجود بہت دلیر ہونے کے آپ کے پاؤں کانپ گئے اور آپ کھڑے نہ رہ سکے اور زمین پر بیٹھ گئے ان کا خیال تھا کہ شائد نبض دل کے قریب چل رہی ہو اور مشک سے قوت کو بحال کیا جا سکتا ہو۔مگر ان کی آواز سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ امید موہوم تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی آواز کے ترعش کو محسوس کیا۔تو آپ سمجھ گئے کہ مبارک احمد کا آخری وقت ہے اور آپ نے ٹرنک کھولنا بند کر دیا اور فرمایا مولوی صاحب شاید لڑ کا فوت ہو گیا ہے۔آپ اتنے گھبرا کیوں گئے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہمیں دی تھی۔اب وہ اپنی امانت لے گیا ہے۔تو ہمیں اس پر کیا شکوہ ہو سکتا ہے پھر فرمایا آپ کو شائد یہ خیال ہو کہ میں نے چونکہ اس کی بہت خدمت کی ہے۔اس لئے مجھے زیادہ صدمہ ہو گا۔خدمت کرنا تو میرا فرض تھا جو میں نے ادا کر دیا اور اب جبکہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر پوری طرح راضی ہیں۔چنانچہ اسی وقت آپ نے بیٹھ کر دوستوں کو خط لکھنے شروع کر دیئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی۔جو اس نے ہم سے لے لی تو مومن کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ جہاں تک ہو سکتا ہے۔دوسرے کی خدمت کرتا ہے اور اس خدمت کو اپنے لئے ثواب کا موجب سمجھتا ہے۔مگر دوسری طرف جب اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوتی ہے تو وہ کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرتا۔وہ سمجھتا ہے خدمت کا ثواب مجھے مل گیا۔لیکن جو جزع فزع کرنے والے ہوتے ہیں۔وہ دنیا کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں اور آخرت کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں اور اس سے زیادہ بد بخت اور کون ہو سکتا ہے۔جو دوہری مصیبت اٹھائے۔اس جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے اور اگلے جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے۔الفضل 14 مارچ 1944ء جلد 32 نمبر 61 صفحہ 4) میاں مبارک احمد صاحب کی ذہانت اور ذکاوت میں احساس اور بے حسی کو مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں۔جنہوں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت صاحب کو مبارک احمد سے کس قدر محبت تھی۔اس محبت کی کئی وجہیں تھیں۔اول یہ کہ وہ کمزور تھا اور کچھ نہ کچھ بیمار رہتا تھا اس لئے اس کی طرف خاص توجہ