تذکار مہدی — Page 293
تذکار مهدی ) 293 روایات سید نا محمود ) سن کر کہا کہ ہاں ٹھیک ہے یہ بات ان بچوں کی سمجھ میں نہ آئی تھی لیکن وہ شخص چونکہ عقلمند تھا اس لئے وہ دیکھ رہا تھا کہ ایک لڈو کے تیار ہونے میں لاکھوں آدمیوں کی محنت خرچ ہوتی ہے۔یہ تو اس نے دنیاوی رنگ میں نصیحت کی تھی مگر جو روحانی بزرگ گزرے ہیں انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔مرزا مظہر جانِ جاناں کی نسبت لکھا ہے کہ انہوں نے بٹالہ کے ایک شخص غلام نبی کو دولڈ و دیئے اس نے منہ میں ڈال لئے اور کھا گیا تھوڑی دیر کے بعد اس سے انہوں نے پوچھا کہ تم نے ان لڈوؤں کو کیا کیا۔اس نے کہا کھا لئے ہیں۔یہ سن کر انہوں نے نہایت تعجب انگیز لہجہ میں پوچھا کہ ہیں کھالئے ہیں۔اس نے کہا ہاں کھالئے۔اس طرح وہ بار بار اُس سے پوچھتے رہے اور تعجب کرتے رہے اتنی جلدی تم نے کھا لئے۔اس کو خیال ہوا کہ انہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ کس طرح کھاتے ہیں۔ایک دن کوئی شخص ان کے پاس کچھ لڈ ولا یا ان میں سے آپ نے ایک لڈو اٹھا کر رومال پر رکھ لیا اور اس میں سے ایک ریزہ تو ڑ کر آپ نے تقریر شروع کر دی کہ میں ایک ناچیز ہستی ہوں میرے لئے خدا تعالیٰ نے یہ اتنی بڑی نعمت بھیجی ہے اس میں کیا کیا چیزیں پڑی ہیں پھر ان کو کتنے آدمیوں نے بنایا ہوگا کیا مجھ ناچیز کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نعمت بھیجی ہے۔اس طرح تقریر کرتے رہے ادھر اپنی عاجزی اور فروتنی بیان کرتے اور ادھر خدا تعالیٰ کی حمد اور تعریف کرتے اسی طرح ظہر سے کرتے کرتے ابھی پہلا ہی دانہ جو منہ میں ڈالا تھا وہی کھایا تھا کہ عصر کی اذان ہوگئی اور اسے چھوڑ کر وضو کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔یہ کیا بات تھی ؟ یہی کہ اس لڈو میں انہیں خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشان نظر آتے تھے یوں کھانے والا تو چار پانچ ، دس میں لڈو بھی جھٹ پٹ کھا جاتا ہے مگر مظہر جان جاناں کے لئے ایک ہی لڈو اتنا بوجھل ہو گیا کہ اس کے کھانے سے ان کی کمر ٹوٹی جاتی تھی۔تو عقل ہی ایک چھوٹی سی چیز کو بڑا بنا دیتی ہے اور نادانی نظر آنے والی بڑی چیز کو چھوٹا ظاہر کر دیتی ہے اسی طرح عقل ایک بڑی نظر آنے والی چیز کو چھوٹا دکھا دیتی ہے اور نادانی ایک معمولی چیز کو بڑا دکھاتی ہے۔تو دانا انسان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے نشان دیکھ لیتا ہے اور نادان بڑی بڑی اہم باتوں میں بھی کچھ نہیں دیکھتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میری صداقت کے خدا تعالیٰ نے لاکھوں نشانات دکھلائے ہیں یہ بالکل درست ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ آپ کی صداقت کے