تذکار مہدی — Page 261
تذکار مهدی ) 261 روایات سید نا محمودی احمق ہیں۔بس روپیہ برباد کیے چلے جارہے ہیں۔انہیں کوئی ہوش نہیں کہ اپنے روپیہ کو کسی اچھے کام پر لگا ئیں۔اسی طرح جب وہ اوقات کی قربانی کرتے تو پھر وہ کہتے کہ یہ تو پاگل ہیں۔اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔انہوں نے ترقی خاک کرنی ہے۔گویا مسلمانوں کو یا وہ احمق قرار دیتے یا ان کا نام مجنون رکھتے۔یہی دو نام انہوں نے مسلمانوں کے رکھے ہوئے تھے۔مگر دیکھو پھر وہی احمق اور مجنون دنیا کے عقلمندوں کے استاد قرار پائے۔پس ہماری جماعت جب تک وہی احمقانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی جس کو کافر اور منافق احمقانہ قرار دیتے تھے اور ہماری جماعت جب تک وہی مجنونانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی۔جس کو کافر اور منافق مجنونانہ رویہ قرار دیتے تھے۔اس وقت تک اسے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر جھوٹ بول بھی لیا کروا گر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر دھوکہ فریب بھی کر لیا کرو۔اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر چالبازی سے بھی کام لے لیا کرو اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر غیبت اور چغلی سے بھی کبھی کبھی فائدہ اٹھا لیا کرو اور پھر یہ امید رکھو کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو جائے۔تو یاد رکھو تمہیں ہرگز وہ کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا ہے۔یہ چیزیں دنیا کی انجمنوں میں بے شک کام آیا کرتی ہیں۔مگر دین میں ان کی وجہ سے برکت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی لعنت اترا کرتی ہے۔(الفضل 27 ستمبر 1938 ء جلد 26 نمبر 223 صفحہ 7) ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہے۔ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ مجھے ہی مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اور شائد اسی لئے فرمایا کہ میں اس کی نگرانی کروں کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو حضرت مولوی صاحب کی وجہ سے سلسلہ میں داخل ہو گئے ہیں۔( حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر مولوی صاحب کہا کرتے تھے ) وہ مولوی صاحب کی قدر جانتے ہیں۔ہماری نہیں۔چونکہ مولوی صاحب نے ہماری بیعت کر لی ہے اس لئے وہ بھی بیعت میں شامل ہو گئے ہیں۔اس سے زیادہ ان کا ایمان نہیں بے شک ان کے دلوں میں ایمان ہے۔مگر ان کا ایمان واسطے کا ایمان ہے۔اس کے مقابلہ میں ایک گروہ