تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 862

تذکار مہدی — Page 234

تذکار مهدی ) کارمهدی 234 روایات سید نا محمود دوست تھے جو مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی دوست تھے۔ان کا نام نظام الدین تھا انہوں نے سات حج کئے تھے۔بہت ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے۔چونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مولوی محمد حسین بٹالوی دونوں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعویٰ ماموریت کیا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا تو ان کے دل کو بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی نیکی پر بہت یقین تھا۔وہ لدھیانہ میں رہا کرتے تھے اور مخالف لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف کچھ کہتے تو وہ ان سے جھگڑ پڑتے اور کہتے کہ تم پہلے حضرت مرزا صاحب کی حالت تو جا کر دیکھو وہ تو بہت ہی نیک آدمی ہیں اور میں نے ان کے پاس رہ کر دیکھا ہے کہ اگر انہیں قرآن مجید سے کوئی بات سمجھا دی جائے تو وہ فوراً ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، وہ فریب ہرگز نہیں کرتے۔اگر انہیں قرآن سے سمجھا دیا جائے کہ ان کا دعویٰ غلط ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہ فوراًمان جائیں گے۔بہت دفعہ وہ لوگوں کے ساتھ اس امر پر جھگڑتے اور کہا کرتے کہ جب میں قادیان جاؤں گا تو دیکھوں گا کہ وہ کس طرح اپنے دعوئی سے تو یہ نہیں کرتے۔میں قرآن کھول کر ان کے سامنے رکھ دوں گا اور جس وقت میں قرآن کی کوئی آیت حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کے متعلق بتاؤں گا، وہ فورا مان جائیں گے۔میں خوب جانتا ہوں وہ قرآن کی بات سن کر پھر کچھ نہیں کہا کرتے۔آخر ایک دن انہیں خیال آیا اور لدھیانہ سے قادیان پہنچے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا کہ کیا آپ نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور قرآن سے انکار کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ کس طرح ہو سکتا ہے قرآن کو تو میں مانتا ہوں اور اسلام میرا مذہب ہے۔کہنے لگے اَلحَمدُ لِلَّهِ میں لوگوں سے یہی کہتا رہتا ہوں کہ وہ قرآن کو چھوڑ ہی نہیں سکتے پھر کہنے لگے۔اچھا اگر میں قرآن مجید سے سینکڑوں آیتیں اس امر کے ثبوت میں دکھا دوں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ چلے گئے ہیں تو کیا آپ مان جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا سینکڑوں آیات کا تو کیا ذکر اگر آپ ایک ہی آیت مجھے ایسی دکھا دیں گے تو میں مان لوں گا۔کہنے لگے اَلحَمدُ لِلَّهِ میں لوگوں سے یہی بحثیں کرتا آیا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب سے منوانا تو کچھ مشکل بات نہیں