تذکار مہدی — Page 233
تذکار مهدی ) 233 روایات سید نا محمود میں سے تھے۔وہ فنا فی الدین کی قسم کے آدمیوں میں سے تھے اکہ چلاتے تھے۔غالباً پھلور سے سواریاں لے کر بنگہ جاتے تھے۔ان کا طریق تھا کہ سواری کو ا کہ میں بٹھا لیتے اور اگہ چلاتے جاتے اور سواریوں سے گفتگو شروع کر لیتے۔اخبار الحکم منگواتے تھے۔جیب سے اخبار نکال لیتے اور سواریوں سے پوچھتے آپ میں سے کوئی پڑھا ہوا ہے۔اگر کوئی پڑھا ہوا ہوتا اسے کہتے کہ یہ اخبار میرے نام آئی ہے ذرا اس کو سنا تو دیجئے اگہ میں بیٹھا ہوا آدمی جھٹکے کھاتا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے کوئی شغل مل جائے۔وہ خوشی سے پڑھ کر سنانا شروع کر دیتا۔جب وہ اخبار پڑھنا شروع کرتا تو وہ جرح شروع کر دیتے کہ یہ کیا لکھا ہے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ اور اس طرح جرح کرتے کہ اس کے ذہن کو سوچ کر جواب دینا پڑتا اور بات اچھی طرح اس کے ذہن نشین ہو جاتی۔جب انہوں نے مجھے یہ واقعہ مجھے سنایا تھا تو اس وقت تک ان کے ذریعہ سے درجن سے زیادہ احمدی ہو چکے تھے۔اس کے بعد بھی وہ کئی سال تک زندہ رہے ہیں۔نامعلوم کتنے آدمی ان کے ذریعہ اور اسی طریق پر احمدیت میں داخل ہوئے۔غرض ضروری نہیں کہ ہمیں کام شروع کرنے کے لئے بڑے بڑے عالم آدمیوں کی ضرورت ہو۔بلکہ ایسے علاقوں میں جہاں کوئی پڑھا ہوا آدمی نہیں مل سکتا۔اگر ان پڑھ احمدی مل جائے تو ان پڑھ ہی ہمارے پاس بھجوا دیا جائے۔اس کو زبانی مسائل سمجھائے جا سکتے ہیں۔تا کام شروع ہو جائے۔اگر ہم اس انتظار میں رہے کہ عالم آدمی ملیں۔تو نا معلوم ان کے آنے تک کتنا زمانہ گزر جائے گا۔کیونکہ علماء کو مذہب کی باریکیوں میں جانا پڑتا ہے۔اس لئے ان کو علم حاصل کرنے میں کافی عرصہ لگ جاتا ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ مذہب میں باریکیاں ہوتی ہیں۔جن کے سیکھنے کے لئے ایک لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے متعلق فرماتے ہیں کہ الدِّينُ يُسر یہ دین بڑا آسان بنایا گیا ہے۔اگر چہ اس میں بڑی بڑی باریکیاں بھی ہیں لیکن یہ اتنا سیدھا سادہ اور آسان ہے کہ ہر آدمی اس کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔میرے تمام دعاوی قرآن کے مطابق ہیں خطبات محمود جلد 26 صفحہ 456-457) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔آپ کے ایک