تذکار مہدی — Page 229
تذکار مهدی ) 229 روایات سید نا محمود کہ ترکی حکومت جو محافظ حرمین شریفین ہے اس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہتک کی ہے۔جب یہ شور بلند ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں لکھا تم تو یہ کہتے ہو کہ ترکی حکومت مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرتی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ترکی حکومت چیز ہی کیا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرے ، مکہ اور مدینہ تو خود ترکی حکومت کی حفاظت کر رہے ہیں۔جس شخص کے دل میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے متعلق اتنی غیرت ہو، اُس کے ماننے والوں کے متعلق کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بچ جائے تو وہ خوش ہوں۔ہم تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ تسلیم کیا جائے کہ حقیقی طور پر مکہ اور مدینہ کی کوئی حکومت حفاظت کر رہی ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ عرش سے خدا مکہ اور مدینہ کی حفاظت کر رہا ہے کوئی انسان ان کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ہاں ظاہری طور پر ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ان مقدس مقامات پر حملہ کرے تو اُس وقت انسانی ہاتھ کو بھی حفاظت کے لئے بڑھایا جائے لیکن اگر خدانخواستہ کبھی ایسا موقع آئے تو اُس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حفاظت کے متعلق جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے انسانوں پر عائد کی ہے اس کے ماتحت ا جماعت احمدیہ کس طرح سب لوگوں سے زیادہ قربانی کرتی ہے۔ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں، ہم ان مقامات کو خدا تعالیٰ کے جلال کے ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو ان کی حفاظت کے لئے قربان کرنا سعادت دارین سمجھتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص ترچھی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا ، خدا اُس شخص کو اندھا کر دے گا اور اگر خدا تعالیٰ نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہاتھ اس بد میں آنکھ کو پھوڑنے کے لئے آگے بڑھیں گے، ان میں ہمارا ہاتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سے آگے ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور تبلیغ (الفضل 30 ستمبر 1935 ءجلد 23 نمبر 55 صفحہ 9) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تبلیغ سلسلہ کے لئے عجیب عجیب خیال آتے تھے اور وہ دن رات اسی فکر میں رہتے تھے کہ یہ پیغام دنیا کے ہر کونہ میں پہنچ جائے۔ایک مرتبہ آپ نے تجویز کی کہ ہماری جماعت کا لباس ہی الگ ہوتا کہ ہر شخص بجائے خود ایک تبلیغ ہو سکے اور