تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 862

تذکار مہدی — Page 228

تذکار مهدی ) 228 روایات سید نا محمودی سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں خانہ کعبہ کی عزت زیادہ ہے یا ہمارے دلوں میں۔آج سے کئی سال پہلے جب بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ تھے ، ایک ترکی سفیر یہاں آیا۔ترکی حکومت کو مضبوط بنانے کے لئے اس نے مسلمانوں سے بہت سا چندہ لیا اور جب اُس نے جماعت احمدیہ کا ذکر سنا تو قادیان بھی آیا۔حسین کامی اس کا نام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کی گفتگو ہوئی۔اس کا خیال تھا کہ مجھے یہاں سے زیادہ مدد ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کا وہ احترام کیا جو ایک مہمان کا کرنا چاہئے۔پھر کچھ مذہبی گفتگو بھی ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسے کچھ نصائح کیں کہ دیانت وامانت پر قائم رہنا چاہئے لوگوں پر ظلم نہیں کرنا چاہئے اور فرمایا کہ رومی سلطنت ایسے ہی لوگوں کی شامت اعمال سے خطرہ میں ہے کیونکہ وہ لوگ جو سلطنت کی اہم خدمات پر مامور ہیں اپنی خدمات کو دیانت سے ادا نہیں کرتے اور سلطنت کے سچے خیر خواہ نہیں بلکہ اپنی طرح طرح کی خیانتوں سے اسلامی سلطنت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ سلطان روم کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے ہیں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ نصیحتیں کیں تو اُس سفیر کو بہت بُری لگیں کیونکہ وہ اس خیال کے ماتحت آیا تھا کہ میں سفیر ہوں اور یہ لوگ میرے ہاتھ چھو میں گے اور میری کسی بات کا انکار نہیں کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اُس سے یہ کڑوی کڑوی باتیں کیں کہ تم حکومت سے بڑی بڑی تنخواہیں وصول کر کے اس کی غداری کرتے ہو، تمہیں تقویٰ و طہارت سے کام لیکر اسلامی حکومت کو مضبوط کرنا چاہئے تو وہ یہاں سے بڑے غصہ میں گیا اور اُس نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ اسلامی حکومت کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ترکی حکومت میں بعض کچے دھاگے ہیں۔مسلمان عام طور پر دین سے محبت رکھتے ہیں مگر افسوس کہ مولوی انہیں کسی بات پر صیح طور سے غور کرنے نہیں دیتے۔یہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ عوام الناس اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف رکھتے اور سچائی سے پیار کرتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ مولوی انہیں کسی بات پر غور کرنے نہیں دیتے اور جھٹ اشتعال دلا دیتے ہیں۔اس موقع پر بھی مولویوں نے عام شور مچا دیا