تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 862

تذکار مہدی — Page 224

تذکار مهدی ) چاند اور سورج گرہن 224 روایات سید نا محمود ہماری جماعت کا یہ مشہور واقعہ ہے کہ ایک مخالف مولوی جو غالبا گجرات کا رہنے والا تھا ہمیشہ لوگوں سے کہتا رہتا تھا کہ مرزا صاحب کے دعوئی سے بالکل دھوکا نہ کھانا حدیثوں میں صاف لکھا ہے کہ مہدی کی علامت یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں سورج اور چاند کو رمضان کے مہینہ میں گرہن لگے گا۔جب تک یہ پیشگوئی پوری نہ ہو اور سورج اور چاند کو رمضان کے مہینہ میں گرہن نہ لگے ان کے دعوی کو ہرگز سچا نہیں سمجھا جا سکتا۔اتفاق کی بات ہے وہ ابھی زندہ ہی تھا کہ سورج اور چاند کے گرہن کی پیشگوئی پوری ہو گئی۔اس کے ہمسائے میں ایک احمدی رہتا تھا اس نے سنایا کہ جب سورج کو گرہن لگا تو اس نے گھبراہٹ میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر ٹہلنا شروع کر دیا۔وہ ٹہلتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا ”ہن لوگ گمراہ ہون گے“۔”ہن لوگ گمراہ ہون گے یعنی اب لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔اس نے یہ نہ سمجھا کہ جب پیشگوئی پوری ہوگئی ہے تو لوگ حضرت مرزا صاحب کو مان کر ہدایت پائیں گے گمراہ نہیں ہوں گے عیسائی بھی ایک طرف تو یہ مانتے تھے کہ یہ تمام علامتیں پوری ہوگئی ہیں جو پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں مگر دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی سن کر وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اس وقت اتفاقی طور پر ایک جھوٹے نے دعویٰ کر دیا ہے جیسے مسلمان کہتے ہیں علامتیں تو پوری ہوگئی ہیں مگر اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس وقت ایک جھوٹے نے دعویٰ کر دیا ہے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ ایسا اتفاق ایک جھوٹے کو ہی نصیب ہوتا ہے بچے کو نصیب نہیں ہوتا۔(تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 56) چاند اور سورج گرہن ہدایت کا موجب اب سیدھی بات ہے کہ خالی شادی کوئی اہم بات نہیں۔لوگ شادیاں کرتے ہی ہیں۔مان لیا کہ حضرت مرزا صاحب جھوٹے ہیں لیکن یہ تو بتائیے کہ اگر آپ جھوٹے تھے تو خدا تعالیٰ یہ بات پوری نہ ہونے دیتا۔اوّل تو آپ شادی ہی نہ کرتے یا اگر شادی کرتے تو آپ کی بیوی مر جاتی یاوہ اچھے خاندان میں سے نہ ہوتی یا اس کے ہاں اولاد نہ ہوتی یا اولاد پیدا ہوتی تو وہ مرجاتی لیکن وجہ کیا ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ پر افتراء بھی کرتا ہے لیکن خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں اُس کی ذات میں پوری کر دیتا ہے۔یا مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے