تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 862

تذکار مہدی — Page 223

تذکار مهدی ) 223 روایات سید نا محمود سوائے پانچ سات چھوٹی سورتوں کے یا سورۃ فاتحہ کے بڑی بڑی سورتیں جو یاد ہیں ان میں سے درمیان کا ٹکڑ اسن کر حوالہ نہیں نکال سکتا۔لیکن یوں بات یادرکھنے میں میرا حافظہ ایسا ہے کہ بعض خطوط جب پرائیویٹ سیکرٹری دو دو ماہ بعد پیش کرتا اور کہتا ہے کہ فلاں شخص نے یہ لکھا ہے تو اگر ان کی غلطی ہو تو میں کہہ دیتا ہوں کہ اس نے یہ تو نہیں بلکہ یہ لکھا ہے۔( الفضل 10 رستمبر 1938 ء جلد 26 نمبر 210 صفحہ 5 تا 7 ) حضرت خلیفہ اول کا جذبہ اطاعت حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے تو اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حکم دیں تو چوہڑے سے بھی اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کو تیار ہوں۔اس کا مطلب یہی تھا کہ حضور کی تعلیم کے مطابق اگر ایسا کرنا پڑے تو عذر نہ ہوگا فرض کرو ایک وقت ایسا آئے کہ سیدوں، مغلوں، پٹھانوں وغیرہ قوموں میں کوئی احمدی رشتہ نہ ملے تو اگر ایک چوہڑا احمدی ہی میسر ہو تو اس سے رشتہ کرنے میں کوئی عذر نہ ہوگا کیونکہ بہر حال اسے دین حاصل ہے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے معنے ہی یہی ہیں کہ اگر کسی کو کوئی بی۔اے پاس رشتہ ملتا ہو تو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا یہ تقاضا نہیں کہ وہ اس کے ساتھ رشتہ نہ کرے۔لیکن اگر نہ ملے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی آنکھیں نیچی کرے اور خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھنے کو اتنی اہمیت تو دے جتنی میراثی نے دو روپے کو دی تھی۔اگر خدا تعالی سارے ہندو، مسلمانوں ،سکھوں اور عیسائیوں کو احمدی بنادے تو ہماری تو خواہش ہے کہ ایک غریب سے غریب اور کنگال سے کنگال احمدی کی لڑکی بھی کسی گورنر یا وائسرائے کے بیٹے سے بیاہی جائے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر ایسا رشتہ نہ ملے تو کیا یہ بہتر ہے کہ کسی گورنر کے لڑکے کے ملنے کی امید میں لڑکی کو بٹھا رکھو یا یہ کہ جو رشتہ ملے کر دو۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ لڑکی نہیں مانتی تو سوال یہ ہے کہ لڑکی کو اس نہ ماننے کے مقام پر کس نے کھڑا کیا ہے؟ اگر ہم نے کیا ہے تو بیشک اس کی سزا ہمیں ملنی چاہئے۔لیکن اگر اس کی ذمہ واری تم پر ہے تو پھر اس سزا کے مستحق تم خود ہو۔خطبات محمود جلد 18 صفحہ 96 تا97)