تذکار مہدی — Page 219
تذکار مهدی ) 219 روایات سید نا محمودی آگ ہے۔آپ نے خیال کیا کہ آگ میں پڑ کر زندہ بچنا تو بہت مشکل ہے۔اس لئے آگ سے مراد لڑائی کی آگ لی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان دنوں بسراواں کی طرف سیر کو جایا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے میں بھی ساتھ تھا کسی نے چلتے ہوئے کہا کہ حضور بڑے مولوی صاحب نے بڑا لطیف نکتہ بیان کیا ہے۔( جو لوگ عام طور پر عقلی باتوں کی طرف زیادہ راغب ہوں۔وہ ایسی باتوں کو بہت پسند کرتے ہیں)۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تقریباً ساری سیر میں اس بات کا رد کرتے رہے اور فرمایا کہ میری طرف سے مولوی صاحب کو کہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں۔ہمیں الہام ہوا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا سلوک کیا۔تو کیا بعید ہے۔کیا طاعون آگ سے کم ہے اور دیکھ لو کیا یہ کم مزہ ہے کہ چاروں طرف طاعون آئی مگر ہمارے مکان کو اللہ تعالی نے اس سے محفوظ رکھا۔پس اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچالیا ہو تو کیا بعید ہے۔ہماری طرف سے مولوی صاحب کو کہہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں۔چنانچہ آپ نے کاٹ دیا۔تو معجزات کے بارے میں انبیاء ہی کی رائے صحیح سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ وہ ان کی دیکھی ہوئی باتیں ہوتی ہیں۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ آدھ آدھ گھنٹہ باتیں کرتا ہے۔سوال کرتا اور جواب پاتا ہے۔اس کی باتوں تک تو خواص بھی نہیں پہنچ سکتے۔کجا یہ کہ عوام الناس جنہوں نے کبھی خواب ہی نہیں دیکھا اور اگر دیکھا ہو تو ایک دو سے زیادہ نہیں اور پھر اگر زیادہ بھی دیکھیں تو دل میں تردد رہتا ہے کہ شائد یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نفس کا ہی خیال ہے۔جو کہتے ہیں کہ ادھر ہم نے سونے کے لئے تکیہ پر سر رکھا اور ادھر یہ آواز آنی شروع ہوئی کہ دن میں تمہیں بہت گالیاں لوگوں نے دی ہیں۔مگر فکر نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تکیے پر سر رکھنے سے لے کر اٹھنے تک اللہ تعالی اس طرح تسلی دیتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔کہ بعض دفعه ساری ساری رات یہی الہام ہوتا رہا ہے کہ انى مع الرسول اقوم“ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں۔دوسرے لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ہاں اللہ تعالیٰ کے بزرگ اور نیک لوگ ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں۔مگر اس حد تک نہیں جس حد تک نبی سمجھ سکتا ہے۔نبی نبی ہی ہے۔اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کلام ایسے رنگ میں ہوتا ہے کہ جس کی مثال دوسری جگہ نہیں مل