تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 862

تذکار مہدی — Page 218

تذکار مهدی ) 218 روایات سید نامحمود بادل آیا اور برسا اور وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی اور یہ معجزہ دیکھ کر اس کی قوم کے بعض لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا ہو گیا اور اس کے لئے سلامتی کے سامان پیدا ہو گئے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ابتداء میں اس آیت کے یہ معنے کیا کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ان کی مخالفت کی آگ کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔مجھے یاد ہے 1903ء میں جب ایک شخص عبدالغفور نے جو اسلام سے مرتد ہو کر آریہ ہو گیا تھا اور اس نے اپنا نام دھرم پال رکھ لیا تھا ترک اسلام نامی کتاب لکھی۔تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب لکھا۔جو ”نورالدین کے نام سے شائع ہوا۔یہ کتاب روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنائی جاتی تھی۔جب دھرم پال کا یہ اعتراض آیا کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی ہوئی تھی تو دوسروں کے لئے کیوں نہیں ہوتی اور اس پر حضرت خلیفہ اول کا یہ جواب سنایا گیا کہ اس جگہ ”نار سے ظاہری آگ مراد نہیں بلکہ مخالفت کی آگ مراد ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس تاویل کی کیا ضرورت ہے۔مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کہا ہے اگر لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کس طرح ٹھنڈی ہوئی تو وہ مجھے آگ میں ڈال کر دیکھ لیں کہ آیا میں اس آگ میں سے سلامتی کے ساتھ نکل آتا ہوں یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اپنی کتاب ”نورالدین میں یہی جواب لکھا اور تحریر فرمایا کہ: تم ہمارے امام کو آگ میں ڈال کر دیکھ لو۔یقیناً خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق اسے اس آگ سے اسی طرح محفوظ رکھے گا جس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو محفوظ ( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 614) رکھا تھا۔“ حضرت خلیفہ اول۔آگ سے ہمیں مت ڈراؤ : معجزوں کو انبیاء ہی زیادہ جان سکتے۔ہم میں سے بیسیوں اشخاص اس بات کے زندہ گواہ ہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جب کتاب نورالدین لکھ رہے تھے۔تو اس میں آپ نے لکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا جو ذکر ہے۔اس سے مراد لڑائی کی