تذکار مہدی — Page 203
تذکار مهدی ) 6203 روایات سید نا محمودی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیٹے ہوئے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب کی یہ عادت تھی کہ وہ بات لمبی کرتے تھے۔انہوں نے کہا۔حضور مجسٹریٹ ضرور قید کر دے گا اور سزا دے دے گا۔بہتر ہے فریق ثانی سے صلح کر لی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہنیوں پر سہارا لے کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔خواجہ صاحب! خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان بات ہے میں خدا تعالیٰ کا شیر ہوں وہ مجھ پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔چنانچہ ایسا ہی ہو ا۔دو مجسٹریٹوں میں سے جو اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر تھے۔ایک کا لڑکا پاگل ہو گیا۔اس کی بیوی نے اسے لکھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کا ماً مور تو نہیں مانتی تھی) کہ تم نے ایک مسلمان فقیر کی ہتک کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک لڑکا پاگل ہو گیا ہے۔اب دوسرے کیلئے ہوشیار ہو جاؤ۔وہ تعلیم یافتہ تھا اور ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا اس نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا دوسرا لڑکا دریا میں ڈوب کر مر گیا۔وہ دریائے راوی پر گیا وہاں نہا رہا تھا کہ مگر مچھ نے اس کی ٹانگ پکڑ لی اس طرح وہ بھی ختم ہو گیا۔وہ مجسٹریٹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قدر تنگ کیا کرتا تھا کہ مقدمہ کے دوران میں سارا وقت آپ کو کھڑا رکھتا اگر پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو پینے کی اجازت نہ دیتا۔ایک دفعہ خواجہ صاحب نے پانی پینے کی اجازت بھی مانگی مگر اس نے اجازت نہ دی۔بعد میں اس کی یہ حالت ہوئی کہ اس نے خود مجھے سے دعا کے لئے درخواست کی۔میری عمر چھوٹی تھی کوئی بیس بائیس سال کی ہوگی۔میں کہیں جانے کے لئے اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ وہ میرے پاس آیا اور ایک گھنٹہ میرے پاس کھڑا رہا اور اس نے درخواست کی کہ میرے لئے دعا کریں کہ کسی طرح یہ عذاب مجھ سے دور ہو جائے۔دوسرے مجسٹریٹ نے بظا ہر آپ کو مقدمہ میں کوئی تکلیف نہیں دی لیکن آخر میں آپ کو جرمانہ کی سزا دے دی۔وہ بھی ذلیل وخوار ہوا اور ملازمت سے الگ کر دیا گیا۔نشان صداقت خطبات محمود جلد اوّل صفحہ 429-428) یہ سب لوگ خدا تعالیٰ کا قرب پا کر آیاتِ مُبَيِّنَاتُ کا مقام حاصل کر گئے اور ان میں ہر شخص کو دیکھ کر لوگ اپنا ایمان تازہ کرتے تھے۔پھر جب اُن کا نور دھندلا ہوا تو خدا تعالیٰ نے