تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 862

تذکار مہدی — Page 202

تذکار مهدی ) 202 روایات سیّد نا محمود بہت گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ فلاں مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ ہے لاہور گیا تھا آریوں نے اُس پر بہت زور دیا کہ مرزا صاحب ہمارے مذہب کے سخت مخالف ہیں ان کو ضرور سزا دے دو خواہ ایک ہی دن کی کیوں نہ ہو، یہ تمہاری قومی خدمت ہوگی اور وہ ان سے وعدہ کر کے آیا ہے کہ میں ضرور سزا دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو آپ لیٹے ہوئے تھے یہ سن کر آپ کہنی کے بل ایک پہلو پر ہو گئے اور فرمایا خواجہ صاحب آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔کیا کوئی خدا تعالیٰ کے شیر پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مجسٹریٹ کو یہ سزا دی کہ پہلے تو اُس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا اور پھر اُس کا ننز ل ہو گیا یعنی وہ ای اے سی سے منصف بنا دیا گیا اور فیصلہ دوسرے مجسٹریٹ نے آ کر کیا تو ایمان کی طاقت بڑی زبردست ہوتی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس جماعت میں نئے لوگوں کے شامل ہونے کا اس صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے کہ شامل ہونے والوں کے اندر ایمان اور اخلاص ہو۔صرف تعداد میں اضافہ کوئی خوشی کی بات نہیں۔اگر کسی کے گھر میں دس سیر دودھ ہو تو اس میں دس سیر پانی ملا کر وہ خوش نہیں ہو سکتا کہ اب اُس کا دودھ میں سیر ہو گیا ہے خوشی کی بات یہی ہے کہ دودھ ہی بڑھایا جائے اور دودھ بڑھانے میں ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔بعض اہم اور ضروری امور ، انوار العلوم جلد 16 صفحہ 293 294) ہند و مجسٹریٹ کا انجام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر 1902ء میں مخالفین کی طرف سے ایک کیس چلایا گیا اور جس مجسٹریٹ کے سامنے یہ کیس پیش تھا وہ آریہ تھا۔اسے لا ہور بلا کر آریہ لیڈروں نے قسم دلائی کہ اس مقدمہ میں مرزا صاحب سے پنڈت لیکھرام کا بدلہ ضرور لینا ہے اور اس نے اپنے لیڈروں کے سامنے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا۔خواجہ کمال الدین صاحب کو رپورٹ پہنچی کہ اس اس طرح مجسٹریٹ کو لاہور بلا کر قسم کھلائی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف رکھتے تھے۔خواجہ کمال الدین صاحب نے آپ سے کہا کہ کسی نہ کسی طرح اس مقدمہ میں صلح کر لی جائے کیونکہ یہ پکی بات ہے کہ مجسٹریٹ کو لاہور بلا کر اس سے یہ وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ ضرور سزا دے اور اس نے سزا دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔