تذکار مہدی — Page 197
تذکار مهدی ) 197 روایات سید نا محمود انتظار کے بعد کہ دنیا اس کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی تھی۔رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد لوگوں نے انتظار کرنا شروع کیا کہ اب مسیح آتا ہے، اب مسیح آتا ہے۔جب بھی ان پر کوئی بلا آئی انہوں نے سمجھا کہ اس کو دور کرنے کے لئے مہدی اور مسیح آئے گا۔جب بھی وہ کسی مصیبت میں پھنسے ان کی نظریں اس امید کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھیں کہ شاید ہمیں اس مصیبت سے نکالنے کے لئے مسیح آجائے لیکن خدا نے اس نعمت کو تمہارے زمانہ کے لئے مقدر کیا ہوا تھا۔پس یہ کتنا عظیم الشان فضل ہے کہ بغیر اس کے کہ ہماری طرف سے کوئی کوشش ہو بغیر اس کے کہ ہمارا کوئی استحقاق ہو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کو ہم میں نازل کیا جس طرح تمام دنیا محمد ﷺ کی آمد کی منتظر تھی مگر اس شدید انتظار کے بعد عرب کے لوگوں کو یہ نعمت عطا کی گئی اور یہودی اس حسد کی وجہ سے جل اٹھے کہ یہ نعمت انہیں کیوں ملی ہمیں کیوں نہیں ملی۔حالانکہ یہ خدا کی دین تھی اور وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل نے ہم میں وہ شخص بھیجا جس کے زمانہ کا انبیاء تک شوق سے انتظار کرتے چلے آئے تھے۔دوسروں کا کیا کہنا ہے خود رسول کریم علی کے شوق کو دیکھو۔آپ فرماتے ہیں۔اگر تمہیں مہدی کے مبعوث ہونے کی خبر ملے تو اس کے پاس اگر تمہیں گھٹنوں کے بل چل کر بھی جانا پڑے تو جاؤ اور اس کی بیعت کرو۔پھر آپ نے فرمایا۔اگر تمہیں مسیح مل جائے تو میرا بھی اس سے سلام کہنا۔اس خادم کی کیا شان ہے جس کو سلام کہنے کا آقا اتنا مشتاق ہے کہ وہ لوگوں سے کہتا ہے میرا سلام یا درکھنا اور اسے بھول نہ جانا۔پھر سوچو۔جس شخص کو سلام کہنے کا محمد ﷺ کو اس قدر اشتیاق تھا اُس کی امت کے دلوں میں اس کے متعلق کتنا بڑا اشتیاق پیدا ہونا چاہئے تھا اور اس نعمت کے ملنے پر انہیں کتنا خوش ہونا چاہئے تھا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ کوئی شخص باہر سے آیا۔غالبا وہ گجرات کے ضلع کا رہنے والا تھا یا کسی اور ضلع کا مجھے اچھی طرح یاد نہیں۔بہر حال وہ آیا اور اس نے بڑے شوق سے آگے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ اور آپ سے مصافحہ کیا۔تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمُ۔لوگوں کو حیرت ہوئی کہ یہ کیسا عجیب انسان ہے اس نے جب پہلی دفعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہ دیا تھا تو اب دوبارہ اسے سلام کہنے کی کیا ضرورت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس پر حیران سے ہوئے اور آپ نے اس سے پوچھا کہ جب آپ ایک دفعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہہ چکے تھے تو اب دوبارہ