تذکار مہدی — Page 183
تذکار مهدی ) 183 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خانہ تلاشی روایات سید نا محمود ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تلاشی کا واقعہ سنا رہے تھے یہ تلاشی پنڈت لیکھرام کے واقعہ قتل کے سلسلہ میں سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور نے لی تھی۔آپ نے فرمایا سپرنٹنڈنٹ پولیس ایک چھوٹے دروازہ میں سے گزرنے لگا تو اس کے سر کو سخت چوٹ آئی اور سر چکرا گیا ہم نے اسے دودھ پینے کو کہا لیکن اس نے انکار کیا کہ اس وقت میں تلاشی کے لئے آیا ہوں اور یہ میرے فرض منصبی کے مخالف ہوگا۔اس پر یہی صاحب جواب بولے ہیں جھٹ بولے۔حضور اس کے سر میں خون بھی نکلا تھا یا نہیں حضرت صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا میں نے اس کی ٹوپی اتار کر نہیں دیکھی تھی۔(خطبات محمدجلد نمبر 13 صفحہ 110) پیشگوئی عبداللہ آتھم اور خواجہ غلام فرید چاچڑاں شریف ڈپٹی عبد اللہ آتھم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو انذاری پیشگوئی فرمائی تھی۔جب اُس کی میعاد گذر گئی اور آتھم نہ مرا تو ظاہر بین لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ایک دفعہ نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی بعض لوگوں نے ہنسی اڑانی شروع کر دی کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور آتھم ابھی تک زندہ ہے۔اُس وقت دربار میں خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے بھی بیٹھے ہوئے تھے جن کے نواب صاحب مرید تھے۔باتوں باتوں میں نواب صاحب کہ مونہہ سے بھی یہ فقرہ نکل گیا کہ ہاں ! مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔اس پر خواجہ غلام فرید صاحب جوش میں آگئے اور انہوں نے بڑے جلال سے فرمایا کہ کون کہتا ہے آتھم زندہ ہے مجھے تو اس کی لاش نظر آ رہی ہے۔اس پر نواب صاحب خاموش ہو گئے تو بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر زندہ معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقتا مردہ ہوتے ہیں اور بعض مردہ نظر آتے ہیں لیکن حقیقتا زندہ ہوتے ہیں۔جو لوگ خدا کی راہ میں جان دیتے ہیں وہ در حقیقت زندہ ہوتے ہیں اور جو لوگ زندہ ہوتے ہیں اُن میں سے ہزاروں روحانی نگاہ رکھنے والوں کو مردہ دکھائی دیتے ہیں۔کسی بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ قبرستان میں رہتے تھے ایک دفعہ کسی نے اُن سے کہا کہ آپ زندوں کو چھوڑ کر قبرستان میں کیوں آگئے ہیں۔انہوں نے کہا مجھے تو شہر میں سب مردے ہی مردے نظر آتے ہیں اور