تذکار مہدی — Page 173
تذکار مهدی ) 173 روایات سید نا محمود شکل دیکھی اس کے دل کی کیفیت بدل گئی اور باوجود اس کے کہ آپ مقام ملزم کی حیثیت میں اس کے سامنے پیش ہوئے تھے اس نے کرسی منگوا کر اپنے ساتھ بچھوائی اور اس پر آپ کو بٹھایا۔جب مولوی محمد حسین صاحب گواہی کیلئے آئے تو چونکہ وہ اس امید میں آئے تھے کہ شاید آپ کے ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی یا کم سے کم آپ کو ذلت کے ساتھ کھڑا کیا ہوگا۔جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ کرسی پر بٹھایا ہوا ہے تو وہ غصہ سے مغلوب ہو گئے اور جھٹ مطالبہ کیا کہ مجھے بھی کرسی دی جائے۔اس پر عدالت نے کہا کہ نہیں آپ کا کوئی حق نہیں کہ آپ کو کرسی ملے۔مولوی صاحب نے کہا کہ میں معزز خاندان سے ہوں اور گورنر صاحب سے ملاقات کے وقت بھی مجھے کرسی ملتی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا کہ ملاقات کے وقت تو چوہڑے کو بھی کرسی ملتی ہے مگر یہ عدالت ہے۔مرزا صاحب کا خاندان رئیس خاندان ہے ان کا معاملہ اور ہے۔مولوی صاحب اس پر بھی باز نہ آئے اور کہا نہیں مجھے ضرور کرسی ملنی چاہیئے میں اہل حدیث کا ایک ایڈووکیٹ ہوں۔اس پر ڈپٹی کمشنر کو طیش آ گیا اور اس نے کہا کہ بک بک مت کر ، پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔مولوی صاحب جب گواہی دے کر باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی تھی اس پر بیٹھ گئے کہ لوگ سمجھیں کہ شاید اندر بھی ؟ کرسی پر ہی بیٹھے تھے مگر نوکر ہمیشہ آقا کی مرضی کے مطابق چلتے ہیں۔چپڑاسی نے جب دیکھا کہ صاحب ناراض ہیں تو اس خیال سے کہ برآمدہ میں کرسی پر بیٹھا دیکھ کر مجھ سے ناراض نہ ہوں آ کر کہنے لگا کہ میاں ! اٹھو کر سی خالی کر دو۔وہاں سے اٹھ کر وہ باہر آئے اور ایک چادر بچھی ہوئی تھی اس پر بیٹھ گئے اور خیال کیا کہ چلو اتنی عزت ہی سہی۔مگر چادر والے نے نیچے سے چادر کھینچتے ہوئے کہا اٹھو! میری چادر چھوڑ دو جو عیسائیوں سے مل کر ایک مسلمان کے خلاف جھوٹی گواہی دینے آیا ہوا سے بٹھا کر میں اپنی چادر پلید نہیں کر سکتا اور اس طرح ذلت پر ذلت ہوتی چلی گئی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے آپ کی عزت قائم ہوئی۔اس کے بالمقابل ہماری جماعت کے کتنے دوست ہیں جو غصہ کے موقعہ پر قابو رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ کر ایسے شدید دشمن کے صحیح واقعات سے بھی اس کی تذلیل گوارہ نہیں کرتے۔خطبات محمود جلد 17 صفحہ 553 تا 556)