تذکار مہدی — Page 125
تذکار مهدی ) 125 روایات سید نا محمود فرماتے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے پڑھ لو۔اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کو خدا تعالیٰ نے اسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ہمارے حساب کے استاد تھے اور لڑکوں کو سمجھانے کے لئے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے کیونکہ جتنی دور بورڈ تھا اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں دے سکتی تھی اور پھر زیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ نظر تھک جاتی۔اس وجہ سے میں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔کبھی جی چاہتا تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ نہیں پڑھتا کبھی مدرسہ میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس یہ شکایت کی تو میں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود کس قدر ناراض ہوں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا۔آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدر سے چلا جاتا ہے ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔پھر ہنس کر فرمانے لگے اس سے ہم نے آٹے دال کی دکان تھوڑی کروانی ہے کہ اسے حساب سکھایا جائے۔حساب اسے آئے نہ آئے کوئی بات نہیں۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کون سا حساب سیکھا تھا اگر یہ مدرسہ میں چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔یہ سن کر ماسٹر صاحب واپس آگئے۔میں نے اس نرمی سے اور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور پھر مدرسے میں جانا ہی چھوڑ دیا۔کبھی مہینہ میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی۔غرض اس رنگ ز مہ میں میری تعلیم ہوئی اور میں درحقیقت مجبور بھی تھا کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا۔چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی مجھے دیا جاتا رہا۔پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی۔ریڈ آئیوڈائڈ آف مرکزی (red iodide of mercury) کی تلی کے مقام پر مالش کی جاتی تھی۔اسی طرح گلے پر بھی اس کی مالش کی جاتی تھی کیونکہ مجھے