تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 862

تذکار مہدی — Page 103

تذکار مهدی ) 103 روایات سید نا محمودی شاید تم نے اس کا مطلب نہیں سمجھا۔یہ ہمارے علاقہ کی ایک مثال ہے کوئی شخص اونٹ بیچ رہا تھا اور ساتھ اونٹ کا بچہ بھی تھا جسے اس علاقہ میں ٹوڈا کہتے ہیں۔کسی نے اس سے قیمت پوچھی تو اس نے کہا کہ اونٹ کی قیمت تو چالیس روپیہ مگر ٹو ڈا کی بیالیس روپیہ۔اس نے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے تو اس نے کہا کہ ٹوڈا اونٹ بھی ہے اور بچہ بھی ہے۔اسی طرح تمہارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تصنیف براہین احمدیہ موجود تھی۔آپ نے جب یہ تصنیف کی تو اس وقت آپ کے سامنے کوئی ایسا اسلامی لٹریچر موجود نہ تھا۔مگر تمہارے سامنے یہ موجود تھا اور امید تھی کہ تم اس سے بڑھ کر کوئی چیز لاؤ گے۔مامورین سے بڑھ کر علم تو کوئی کیا لا سکتا ہے سوائے اس کے کہ ان کے پوشیدہ خزانوں کو نکال نکال کر پیش کرتے رہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ بعد میں آنے والی نسلوں کا کام یہی ہوتا ہے کہ گزشتہ بنیاد کو اونچا کرتے رہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے آئندہ نسلیں اگر ذہنوں میں رکھیں تو خود بھی برکات اور فضل حاصل کر سکتی ہیں اور قوم کے لئے بھی برکات اور فضلوں کا موجب ہو سکتی ہیں مگر اپنے آباء سے آگے بڑھنے کی کوشش نیک باتوں میں ہونی چاہئے۔یہ نہیں کہ چور کا بچہ یہ کوشش کرے کہ باپ سے بڑھ کر چور ہو بلکہ یہ مطلب ہے کہ نمازی آدمی کی اولا د کوشش کرے کہ باپ سے بڑھ کر نمازی ہو۔خطبات محمود جلد سوم صفحہ 485-484) عادت کے خلاف کام کرنا مجھے یاد ہے جب میں مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا تو پرانے دستور کے مطابق میں پاجامہ پہنا کرتا تھا۔جو شلوار کے رواج سے پہلے عام طور پر سکولوں میں رائج تھا جو شرعی پاجامہ کہلاتا ہے وہ تو اوپر سے کھلا اور نیچے سے تنگ ہوتا ہے، لیکن وہ اوپر نیچے برابر پتلون نما ہوتا تھا اور وہی میں عموماً پہنا کرتا تھا۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دیکھ کر فرمایا کرتے تھے یہ پاجامہ کیا ہے جیسے بندوق کا بگہ ( تھیلا) ہوتا ہے۔اب تو بندوقیں بھی پرانے طرز کی نہیں رہیں اور نہ ویسے تھیلے ہوتے ہیں۔مگر پہلے اس قسم کے ہوا کرتے تھے۔بعض لڑکوں نے مجھے کہا میں شلوار پہنا کروں چنانچہ میں نے شلوار بنوائی۔مجھے خوب یاد ہے جب پہن کر میں گھر سے باہر آیا تو میں نہیں سمجھتا کوئی چور یا ڈا کو بھی کوئی واردات کر کے اتنی ندامت اور شرمندگی محسوس کرتا ہوگا جتنی کہ مجھے اس وقت شلوار پہننے سے محسوس ہوئی۔میں آنکھیں نیچی کئے ہوئے بمشکل اس مکان