تذکار مہدی — Page 58
تذکار مهدی ) 58 روایات سید نامحمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے۔میں نے اس فقرہ سے سمجھ لیا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور یہ مجھے اس صدمہ کے لئے تیار کر رہا ہے اور میں نے اس سے کہا کہ تم ڈرو نہیں اور جو سچ سچ بات ہے وہ بتا دو۔اس پر اس نے کہا کہ بات تو یہی ہے کہ وہ فوت ہو چکی ہیں۔“ رپورٹ مجلس مشاورت 1938ء صفحہ 141 ) دنیا کی عزت خود ملتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو دنیا طلبی سے اتنی نفرت تھی کہ ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے تحصیلداری کا امتحان دیا تو حضرت صاحب کو بھی انہوں نے دعا کے لئے لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کا رقعہ پڑھ کر سخت غصہ آیا اور آپ نے اسے پھاڑ دیا۔مگر ادھر آپ نے رقعہ پھاڑا اور ادھر آپ کو الہام ہوا۔کہ پاس ہو جائے گا“ تذکرہ صفحہ 125)۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ وہ پاس ہو گئے اور پھر قائمقام ڈپٹی کمشنر ہو کر ریٹائر ہوئے تو اللہ تعالیٰ جن کو روحانی مراتب عطا فرماتا ہے۔ان کو ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کے لوگوں کے پاس جائیں۔بلکہ دنیا کے لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان سے فیض اٹھائیں۔ایک دفعہ کشمیر کے فسادات کے سلسلہ میں شملہ گیا اور لارڈ ولنگڈن سے ملا۔ملاقات کے بعد لارڈ ولنگڈن کا سیکرٹری میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا اسٹنٹ جو مسٹر گریفن کا پوتا ہے۔وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نے اس سے کہیں ذکر کیا تھا کہ مسٹر گریفن کا میرے دادا سے بڑا تعلق رہا ہے اور اس کی کئی چٹھیاں ہمارے دادا کے نام موجود ہیں۔اس نے اس بات کا اپنے اسسٹنٹ سے ذکر کر دیا کیونکہ وہ مسٹر گریفن کا پوتا تھا اور اس نے مجھ سے ملنے کی خواہش کی۔چنانچہ وہ مجھ سے ملا اور کہنے لگا کہ میں اپنے دادا کی وہ چٹھیاں دیکھنا چاہتا ہوں جو انہوں نے آپ کے دادا کو لکھی تھیں۔میں نے کہا کہ وہ کتاب البریہ میں چھپی ہوئی ہیں۔آپ جب چاہیں وہاں سے دیکھ سکتے ہیں۔مسٹر گریفن امرتسر کا کمشنر تھا اور اس زمانے میں کمشنر کے اختیارات گورنر کے برابر ہوا کرتے تھے اور کمشنری بھی صرف امرتسر کی ہی ہوا کرتی تھی۔جب ہم وہاں سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو سامنے سے وائسرائے اپنی موٹر میں آرہا تھا۔اس کا کوئی دانت خراب تھا۔وہ ڈاکٹر کو دکھانے کے لئے جا رہا تھا۔اس نے جب مجھے دیکھا تو دور سے ہی مجھے سلام کرنا شروع کر دیا۔مگر میں نے نہ پہچانا کہ یہ کون شخص ہے۔چنانچہ