رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 20
20 20 ستم کا نشانہ بنایا گیا۔آپ کے پیاروں اور جانثاروں سے آپ کی آنکھوں کے سامنے سفا کی اور بربریت کا سلوک کیا گیا لیکن آپ تو کل علی اللہ کا پہاڑ بن کر یہ سب کچھ برداشت کرتے رہے اور اپنے صحابہ کو بھی صبر و استقامت کی نصیحت کرتے ہوئے یہی فرماتے رہے کہ گھبراؤ نہیں یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ایک دن خدا ضرور ہماری مدد اور نصرت فرمائے گا۔آپ کا یہ نمونہ تھا جو صحابہ کے دلوں کا سہارا تھا۔ہجرت کے بعد آپ کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا جس میں آپ کو دشمنوں کے پے در پے حملوں کے جواب میں دفاعی جنگوں کے میدانوں میں اترنا پڑا۔ہر غزوہ کے موقع پر نفری ، اسلحہ اور تیاری کے لحاظ سے حملہ آور دشمن کا پلہ بھاری ہوتا۔ان حالات میں میدان مقابلہ میں اتر نا گویا اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنے والی بات ہوتی۔عملاً بھی متعدد مراحل ایسے آئے کہ موت آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی اور وقتی طور پر ہزیمت کی سی کیفیت سے بھی گزرنا پڑا لیکن ان حوصلہ شکن اور انتہائی خطرناک حالات میں بھی ہمارے پیارے آقا محمد عربی ﷺ نے استقامت ، جرات ، یقین اور توکل علی اللہ کے ایسے ایسے ایمان افروز نمونے دکھائے کہ دنیا کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔دشمنانِ اسلام آج بھی ان واقعات کو حیرت اور تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور آقائے دو جہاں محمد مصطفے اللہ کی عظمت و رفعت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔