رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 19
19 تو کل کا مقام خائم اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۷) اللہ تعالیٰ کے سب انبیاء کرام اپنے اپنے وقت میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر محکم ترین ایمان رکھنے والے اور کلیتہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرنے والے مقدس وجود ہوتے ہیں۔ہمارے آقا و مولیٰ ، ہادی کامل حضرت محمد مصطفے ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین کے عالی منصب پر فائز فرما کر امام الانبیاء کا مرتبہ عطا فر مایا۔اللہ تعالیٰ نے آپ میں نہ صرف جملہ انبیائے کرام کی صفات ودیعت فرما ئیں بلکہ آپ کی زندگی میں ہر فضیلت اپنی معراج پر نظر آتی ہے۔تو کل علی اللہ کے باب میں بھی یہ کیفیت آپ کی ساری حیات طیبہ میں اس شان سے جلوہ گر نظر آتی ہے کہ پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آپ کو اس میدان میں بھی سب انبیاء کرام پر افضلیت اور اکملیت کا مقامِ خاتم عطا فرمایا گیا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر آپ کی حیات طیبہ کے واقعات زندہ گواہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے تحت آپ کی حیات طیبہ مختلف ادوار میں سے گزری۔زندگی میں نشیب و فراز آتے رہے۔سیرت نبوی کا مطالعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آپ نے زندگی کے ہر موڑ پر ، حالات کے ہر مرحلہ پر توکل علی اللہ کی صفت کو ہمیشہ سر بلند رکھا۔تو کل علی اللہ کی شمع فروزاں نے آپ کی مبارک زندگی کے ہر زاویہ کو منور کیا۔مگی زندگی کے پر آشوب دنوں میں جبکہ زہرہ گداز مظالم نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا، تیرہ سالہ عرصہ کا ایک ایک دن امتحان تھا۔آپ کی ذات کو ظلم و