تأثرات — Page 67
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 61 لیے احباب جماعت پہلے سے وہاں پر بڑی تعداد میں موجود تھے۔ایک جم غفیر استقبال کے لیے موجود تھا۔ارد گرد کی سڑکیں، راستے ، مکانوں کی چھتیں اور پارک کی ہوئی کاروں اور بسوں کی چھتیں بھی احباب جماعت سے بھری ہوئی تھیں تا کہ اس تاریخی منظر کو دیکھ سکیں اور اپنے محبوب آقا کا دیدار کرسکیں۔نعروں کی گونج میں حضور انور ایدہ اللہ تعالی ہاتھ ہلا ہلا کر سب کو سیراب کر رہے تھے اور نعروں اور اپنائیت کا جواب دے رہے تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی مسکراہٹ ہجر زدوں کے دلوں پر تسکین کا پھاہا رکھ رہی تھی۔پرچم کشائی ہوئی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے لوائے احمدیت لہرایا اور امیر صاحب نائیجیریا نے قومی پرچم جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد کی بیرونی دیوار پر نصب سختی کی نقاب کشائی کی اور مسجد کے اندر تشریف لے گئے جہاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد سے باہر تشریف لائے تو ناصرات الاحمدیہ ایک گروپ کی صورت میں استقبالیہ نظمیں پڑھ رہی تھیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ان لڑکیوں کے پاس تشریف لے گئے اور کچھ دیر ان کے پاس کھڑے رہ کر نظمیں سنیں اور بعد ازاں ان کو قلم عطا فرمائے جس کے بعد ہوٹل Premier کے لیے روانگی ہوئی جہاں دو پہر کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔الورین (Ilorin) کے لیے روانگی: اب ابادان سے الورین کے لیے روانگی تھی جو ابادان سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ابادان سے الورین کی طرف روانہ ہوئے اور سارے رستے سڑک کے کنارے احباب جماعت جگہ جگہ کھڑے دکھائی دے رہے تھے جن کے پاس پہنچ کر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کار آہستہ ہو جاتی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ان کے نعروں کا جواب ہاتھ ہلا ہلا کر دیتے۔ہر طرف سے اَهْلًا وَّ سَهْلًا وَّ مَرْحَبًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِینَ ! کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔لڑکیاں اور لڑکے بھی خوب صورت لباس پہنے اپنے آقا کی آمد پر اپنی مقامی زبانوں میں استقبالیہ گیت الاپ رہے تھے۔سڑک پر رواں دواں مسافر اور مکانوں اور دکانوں، آبادیوں اور بازاروں میں چلتے پھرتے لوگ حیرت سے یہ نظارے تک رہے تھے کیونکہ ابادان شہر کی سڑکوں اور بازاروں نے یہ نظارے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھے تھے۔اس شہر سے گزرنے والے ہر ایک راستے پر احباب جماعت کئی کئی گھنٹوں سے اپنے آقا کے استقبال میں دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوئے تھے۔جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کاران کے قریب سے گزرتی تو یہ ساتھ ساتھ دوڑ پڑتے اور کار کے شیشے سے ہاتھ لگا کر اپنے چہروں پر ملتے تا کہ اس سے کچھ برکت حاصل ہو جائے۔کار کے ساتھ ساتھ کچھ دور تک دوڑتے اور پھر اپنی پیاس بجھا کر خوشی اور مسرت سے دامن بھر کر واپس لوٹ جاتے۔یہ سلسلہ ابادان سے الورین تک جگہ جگہ چلتا رہا۔راستے میں Oraffa, shogbo اور Monatan کی جماعتوں نے ہائی