تأثرات — Page 66
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 60 معلوم تھا کہ آج حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ان کے شہر میں قدم رنجہ ہونے والے ہیں اس لیے صبح سویرے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقبال کے لیے مین ہائی وے پر شہر کی مختلف جماعتوں کے احباب کرام بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے۔ہر کس و ناکس کی نظر سڑک پر لگی ہوئی تھی کہ کسی وقت بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کا روہاں پہنچے سکتی تھی۔سوا ایک بجے دوپہر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ابادان پہنچے تو زندگی کی ایک لہر احباب جماعت میں دوڑ گئی۔فضا اهلا و سَهْلًا وَّ مَرْحَبًا کی آوازوں سے معطر ہورہی تھی اور فلک نعرہ ہائے تکبیر، احمدیت زندہ باد، حضرت خلیفہ اسیح الخامس زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔جو نہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کار سے باہر تشریف لائے تو عشاق کا ہجوم تشنگاں اپنے پیارے آقا کے دیدار کو لپکا ، ان سے اپنے جذبات سنبھالے نہ جارہے تھے گویا: آنسو ނ بڑا کوئی مصور نہیں عابد جو خون جذبات کی تصویر بنائے (مبارک احمد عابد ) عشاق کی تو یہ حالت تھی کہ آنسوؤں کی جھڑیوں میں کیسے اپنے پیارے کو دیکھ پاتے بار بار آنسو پونچھتے جاتے گویا: تیرے ب چہرے کو دیکھنے والے اپنی آنکھوں پیار کرتے ہیں عشاق کی اس کیفیت کو دیکھتے ہوئے معشوق کا ر سے نکل کر کچھ دیر کے لیے دید کی خیرات بانٹتار ہا اور پھر کار میں سوار ہو کر ہوٹل Premier کے لیے روانہ ہوئے جہاں جماعت نے دو پہر کو کچھ دیر قیام کے لیے انتظام کر رکھا تھا۔یہ وہی ہوٹل تھا جس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دورہ نائیجیریا کے دوران 1980ء میں قیام فرمایا تھا۔3 مسجد بیت الرحیم کا افتتاح: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہوٹل Premier میں صرف پندرہ منٹ قیام فرمایا اور نماز ظہر اور عصر کی ادائیگی کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ابادان کے علاقہ Apata کی طرف روانہ ہوئے جہاں جماعت احمدیہ کو ایک بڑی خوب صورت دو منزلہ مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا نام مسجد بیت الرحیم “ رکھا۔آج اس مسجد کا افتتاح کرنے کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ تشریف لائے تھے۔دو پہر اڑھائی بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد میں پہنچے تو آنکھوں کی سیرابی اور دلوں کی تسکین کے