تأثرات — Page 60
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء سرکردہ مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے ملاقاتیں: 54 26 اپریل 2008ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ صبح نو بجے اپنے دفتر تشریف لائے جہاں بینن کی کچھ اہم شخصیات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے پہلے سے موجود تھیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو الگ الگ ملاقات کا وقت دیا۔ان میں صدر مملکت کی مشیر برائے سوشل افیئر زو حقوق نسواں اور نیشنل وائس پریذیڈنٹ آف چیمبر آف کامرس، پادری داود دور یورنٹڈ پریذیڈنٹ آف بین المذاہب ، کنگ آف ڈاسا اور ڈا سا سے آیا ہوا ایک وفد اور وزیر برائے سوشل افیئر زاور نگہداشت بچے و خاندان اور ان کا وفد شامل تھے۔صدر مملکت کی مشیر خاص برائے سوشل افیئر زو حقوق نسواں اور نیشنل وائس پریذیڈنٹ آف چیمبر آف کامرس الحاج مادام گر اس لاوانی صاحبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت کی سوشل افیئر ز اور امن اور بھائی چارے کے قیام کی کامیاب کوششوں پر جماعت احمدیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بین اسی لیے ہر ممکن تعاون جماعت کے ساتھ کر رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ ذاتی طور پر ایک سو قتیموں کی کفالت کر رہی ہیں۔لہذاوہ چاہتی ہیں کہ ان کو گھر مہیا کیے جائیں جس کے لیے جماعتی تعاون درکار ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان سے دریافت کیا کہ کتنا خرچ ہوگا ؟ انہوں نے بتایا کہ چالیس (40) ملین فرانک سیفا اس پر خرچ اٹھے گا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت فرمایا: دس ہزار پاؤنڈ ( دس ملین فرانک۔ناقل ) جماعت کی طرف سے پیش کرتا ہوں۔“ الفضل انٹرنیشنل 13 تا 19 جون 2008 صفحہ 10) اُن کے بعد پریذیڈنٹ آف نیشنل کونسل آف بین المذاہب جناب پادری داود ور یورنڈ نے اپنے پانچ رکنی وفد کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔انہوں نے اپنے تاثرات یوں بیان کیے: ”میرے لیے زندگی کا یہ بہترین لمحہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ نے مجھے ملاقات کا وقت دیا ہے۔جماعت احمدیہ کی خدمات کے تو شروع سے ہی ہم مذاح ہیں لیکن جس کمال شفقت سے خلیفہ اسی نے ہمیں ملاقات کا وقت دیا ہے اس پر ہم تہ دل سے حضور انور کے شکر گزار ہیں۔خلیفتہ اسیح ہمارے باپ کی طرح ہیں اور میں یہ بات ان کے علم میں لانا چاہتا ہوں جماعت احمد یہ بینن کے بین المذاہب سیمینار منعقد کرانے سے ہی ہمارے لیے دنیشنل کونسل آف بین المذاہب کو تشکیل دینا ممکن ہو سکا۔“ الفضل انٹر نیشنل 13 تا 19 جون 2008 صفحہ 10)