تأثرات

by Other Authors

Page 18 of 539

تأثرات — Page 18

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء 18 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھجوا دیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ بعد منظوری حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ یہ مواد انٹرنیٹ اور ڈاک کے ذریعے تمام ممالک کے امرا کو بھجوا دیا جائے تاکہ اپنے جلسہ ہائے سالانہ اور خلافت جوبلی کی تقریبات کے لیے انہیں مواد تلاش کرنے میں دقت نہ ہو اور اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اتحاد اور یگانگت کی ایسی فضا قائم کی جائے جس کی پہلے کہیں نظیر نہ ملتی ہو۔چنانچہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے بڑی محنت اور عشق رسول کے رنگ میں ڈوبے ہوئے مقامی سطح پر سبھی نے منعقد کیے۔یومِ خلافت کے ان جلسوں کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین کی سیرت و سوانح اور فضائل صحابہ پر بھی جلسے اور سیمینار منعقد کیے گئے جن میں ہر ایک نے اپنے اپنے رنگ میں حصہ لیا۔گویا ساری دنیا میں جماعت احمد یہ عالم گیر کے مختلف تعلیمی، تربیتی تبلیغی اجتماعات اور دیگر کئی ایک خصوصی پروگرام بڑی کثرت کے ساتھ منعقد ہوئے۔جوں جوں ہم اس سال میں آگے بڑھتے گئے توں توں اِن روحانی پروگراموں کی تعداد اور وسعت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اُدھر اللہ تعالیٰ کے افضال و انوار کی بارش بھی تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی۔جہاں جہاں ممکن تھا اُن ممالک کی سرزمینوں کو حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قدوم میمنت لزوم نے اور اُن کے جلسہ ہائے سالانہ کے پروگراموں کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود باجود نے برکت اور رونق بخشی۔یوں اُن جلسوں اور پروگراموں کی شان میں مزید اضافہ ہو گیا۔خوش نصیبوں کے قافلے صدیوں کا سفر سالوں، سالوں کا مہینوں، مہینوں کا ہفتوں ، ہفتوں کا دنوں اور دنوں کا سفر محوں میں طے کر کے خلافت جو بلی کے اس سال تک پہنچے تھے تو ہر ایک بیمار اپنے اپنے روگ لے کر اُس مسیحا کی مسیحائی کا ایک دم پانے کے لیے کشاں کشاں اُسی سمت بڑھ رہا تھا جس طرف یہ مسیجادُکھی دلوں پر مسرتوں کا مرہم رکھنے پہنچا تھا۔اڑ اڑ کر پنچھی اس کے پاس پہنچے۔زندگی بانٹنے والے اُس وجود نے ہر مردہ رُوح کو زندہ کر دیا اور ہر ایک زخمی اور رنجیدہ دل کو مسرور کر دیا تھا، ہر ایک کی رگِ حیات کو بحال کر دیا تھا اور مغموم قلوب کو نہال کر دیا تھا۔کئی ایسے تھے جو ان قدموں میں حاضر ہو گئے اور بیشتر ایسے تھے جو ان قدموں میں حاضر نہ ہو سکے لیکن حاضری تو دی خطوط کے ذریعہ سے اور پھر ٹی وی سکرین پر اپنے آقا کا دیدار کر کے۔وہ دیکھتے تھے کہ جو پروانے اس شمع انور کے گرد جمع ہیں وہ کیسے فریفتہ ہیں اور جو پروانے دور ہیں ان کی فدائیت کا ثبوت تو وہ خود بنے ہوئے ہیں۔