تأثرات — Page 218
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء ہونے پر ہر بچے جوان، بوڑھے، مرد عورت کے دل میں خلافت سے تعلق اور اس کی اہمیت کا احساس پہلے سے کئی گنا بڑھ کر نظر آتا ہے۔جس کا اظہار زبانی بھی اور خطوط میں بھی بہت زیادہ احباب و خواتین کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے خلافت احمدیہ کے سوسالہ سفر کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیاری جماعت کے افراد کو خلافت سے وفا اور اخلاص میں بڑھایا ہے۔پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زمانہ کے امام کا یہ دعوی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی تائید و نصرت کے شامل حال رہنے کا وعدہ فرمایا ہے سچا دعوی ہے۔“ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 193 الفضل انٹر نیشنل 31 اکتوبر تا 7 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 10) آج جب میں دنیا کے کسی بھی ملک میں بسنے والے احمدی کے چہرے کو دیکھتا ہوں تو اس میں قدر مشترک نظر آتی ہے اور وہ ہے خلافت احمدیہ سے اخلاص و وفا کا تعلق۔چاہے وہ پاکستان کا رہنے والا احمدی ہے یا ہندوستان میں بسنے والا احمدی ہے۔انڈونیشیا اور جزائر میں بسنے والا احمدی ہے، بنگلہ دیش میں رہنے والا احمدی ہے۔آسٹریلیا میں رہنے والا احمدی ہے یا یورپ اور امریکہ میں بسنے والا احمدی یا افریقہ کے دُور دراز علاقوں میں بسنے والا احمدی ہے۔خلیفہ وقت کو دیکھ کر ایک خاص پیار، ایک خاص تعلق ، ایک خاص چمک چہروں اور آنکھوں میں نظر آ رہی ہوتی ہے اور یہ صرف اس لیے ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت اور وفا کا تعلق سچا تعلق ہے اور یہ صرف اس لیے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل اطاعت اور محبت کا تعلق ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اس بات کا مکمل فہم و ادراک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جو کل انسانیت کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے نجات دہندہ بنا کر بھیجے گئے اور خلافت احمد یہ آپ تک لے جانے کی ایک کڑی ہے۔اس وحدت کی نشانی ہے جو خدائے واحد کے قدموں میں ڈالنے کے لیے ہمہ وقت مصروف ہے۔پس کیا کبھی ایسی قوم کو ایسے جذبات رکھنے والی روحوں کو کوئی قوم شکست دے سکتی ہے؟ کبھی نہیں اور کبھی نہیں۔اب جماعت احمد یہ کا مقدر کا میابیوں کی منازل کو طے کرتے چلے جانا ہے اور تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔یہ اس زمانے کے امام سے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی اپنے وعدوں کو جھوٹا نہیں ہونے دیتا۔“ الفضل انٹر نیشنل۔31 اکتوبر تا 7 نومبر 2008ء صفحہ نمبر (12) جلسہ کے اختتام کے موقع پر سب احباب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار دُعائیہ نظمیں پڑھتے ہوئے کیا پھر جر من احباب نے اپنی زبان میں اظہار عقیدت کیا۔جس کے بعد ترکی