تأثرات — Page 217
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء ہم ان کو قبول کرتے ہیں۔کسی پر امن معاشرے کی بنیاد اس بات پر رکھی جاسکتی ہے کہ سب ایک دوسرے کے جذبات، احساسات اور مذہب کو قبول کریں اور کسی کو تکلیف نہ پہنچا ئیں۔جماعت کا جو ماٹو ہے کہ محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں یہ ایک بہت اچھا پیغام ہے تمام مذاہب کے لیے، اصل میں مذاہب ایک دوسرے کو ملانے کے لیے بنائے جاتے ہیں لیکن آج کل ایک دوسرے کو پھاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ہمیں بڑی خوشی ہے کہ آپ اپنا امن کا پیغام ہمارے اس شہر سے چودھویں دفعہ اپنے TV کے ذریعہ دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں اور ہمارے اس شہر کی بھی نیک نامی ہورہی ہے۔ہم اس بات کے لیے آپ کے شکر گزار بھی ہیں اور خوش بھی ہیں۔میں خصوصی طور پر من ہائم جماعت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتنے بڑے پروگرام کو اتنے اچھے طریقے سے منتظم کیا ہے۔باتنخواہ نہیں بلکہ خوشی سے طوعی کام کرنے والے افراد، کارکنان اس کو سنبھالے ہوئے ہیں۔چالیس ہزار سے زاید افراد کا انتظام سنبھالنا کوئی معمولی بات نہیں ہے، میں فخر کرتا ہوں کہ آپ اس کام کو بڑی آسانی سے کر رہے ہیں۔مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آپ کی جماعت نے ایک مناسب قطعہ زمین ڈھونڈ لیا ہے۔اگر باقی سب انتظامات مکمل ہو گئے تو انشاء اللہ اگلے جلسہ سالانہ پر یہاں آپ کی مسجد کا افتتاح ہوگا۔میں انتہائی خوشی اور فخر سے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ جو ہے ہمارے شہر کی آبادی کا ایک بڑا اہم حصہ ہے اور میں بڑی خوشی سے آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا جلسہ بہت بہتر رنگ میں اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔مستقبل میں بھی ہم آپ کے ساتھ مل کر اس شہر میں پُرامن رہنے کو بہتر سمجھتے ہیں اور آخر پر آپ کو ایک بار پھر میں اپنے جذبات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بہت خوشی ہے کہ آپ اپنے جلسہ کو یہاں منعقد کر رہے ہیں۔“ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب: 192 الفضل انٹرنیشنل 31 اکتوبر تا 7 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 16) جلسہ سالانہ جرمنی سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: " آج کل جماعت احمدیہ میں افراد جماعت میں خلافت احمدیہ کے سو سال پورے