تأثرات — Page 199
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جو بلی تقریبات 2008ء 175 برقرار رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ برطانیہ کا بیالیسواں جلسہ سالانہ 25، 26 اور 27 جولائی کو ہیمپ شائر میں نہایت کامیابی سے منعقد ہوا جس میں چھیاسی ممالک کے چالیس ہزار چھ صد پچپن (40,655) احمدی احباب وخواتین نے شرکت کی۔خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی جلسہ ہونے کی وجہ سے اس سال زیادہ وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے اور دور و نزدیک سے مرد و خواتین جلسہ میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔اس جلسہ میں شامل ہزاروں احباب کے ساتھ ساتھ مسلم ٹیلی ویژن احمد پہ انٹرنیشنل کے ذریعہ دنیا بھر کے احمد یوں نے اللہ تعالیٰ کے افضال کی بارشوں کے نظارے براہ راست دیکھے اور فیض یاب ہوئے۔اس موقع پر عالمی بیعت کا نظارہ ایک بار پھر دنیا نے دیکھا۔امسال تین لاکھ چون ہزار اور چھ سو ارتیں (3,54,638) نئی سعید روحوں کو بیعت کر کے احمدیت کے نور سے منور ہونے کی توفیق ملی یوں ایک سو اکیس (121) ممالک کی تین سوا کاون (351) اقوام کے افراد احمدیت میں داخل ہوئے۔الحمد للہ۔خلیفہ وقت کے پاکستان سے ہجرت اور برطانیہ میں قیام کی برکت سے یہ جلسہ مرکزی جلسہ کی حیثیت رکھتا ہے۔قبل ازیں بیس سال تک جلسہ سالانہ کا انعقاد اسلام آبادٹلفورڈ میں ہوتا رہا۔اس کے بعد جلسہ سالانہ کی وسعت کو دیکھتے ہوئے اور شرکاء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 2005ء میں یہ جلسہ رشمور امیر بنا، آلڈ رشاٹ میں منعقد ہوا۔2006ء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل محض سے سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الخامس کی راہنمائی میں جماعت احمدیہ کو آلٹن کے علاقہ میں دو سو آٹھ (208) ایکڑ کا رقبہ خریدنے کی توفیق دی جو نہایت خوب صورت اور سرسبز و شاداب علاقہ ہے۔حضور انور ایدہ اللہ نے اس جگہ کا نام حدیقۃ المہدی تجویز فرمایا۔جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ایک زبر دست دلیل اور الہی نشان ہے کیونکہ 1891ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کی بنیا د رکھی تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر یہ اعلان فرمایا کہ دنیا کی سب اقوام کے لوگ اس جلسہ میں شرکت کریں گے۔ابتدا میں اس جلسہ میں صرف 75 افراد شامل ہوئے۔اس کے بعد 1983ء میں پاکستان میں ہونے والے آخری جلسہ سالانہ میں اڑھائی لاکھ احباب شامل ہوئے جو دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔1984ء سے حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے جلسوں اور اجتماعات پر پابندی لگا دی تو یہ جلسے برطانیہ میں منعقد ہونا شروع ہو گئے۔پہلے سال صرف چار ہزار (4,000) احباب جماعت اس جلسہ میں شامل ہوئے لیکن 2008ء چونکہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ صد سالہ خلافت جو بلی کا سال تھا۔لہذا اس جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد چالیس ہزار (40,000) سے بھی بڑھ گئی اور ان شامل ہونے والوں کا تعلق دنیا کے 86 ممالک سے ہے۔الحمد للہ۔ہر سال جلسہ سالانہ بعض خاص امتیازی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔2008ء کا جلسہ اس لحاظ سے نہایت ہی عظیم الشان اور غیر معمولی اہمیت کا حامل جلسہ تھا کہ اس سال جماعت احمدیہ کی صد سالہ خلافت جو بلی منائی جارہی تھی اور یہ جلسہ اسی کا ایک حصہ تھا۔