تأثرات

by Other Authors

Page 99 of 539

تأثرات — Page 99

تاثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء نئی سے نئی منزلیں ہمیں دکھائے۔آمین 93 (خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسح الخامس ایدہ اللہ بیان فرموده 9 مئی 2008ء - الفضل انٹر نیشنل 30 مئی تا 5 جون 2008ء صفحہ 8) بینن سے نائیجیریا میں داخل ہونے کے بعد امیر صاحب نائیجیریا نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ نائیجیریا کے ساؤتھ میں ایک قصبہ کی پرانی قائم شدہ جماعت ہے جو بڑی شاہراہ سے دس، بارہ میل کے فاصلے پر ہے، وہاں جماعت نے ایک نئی مسجد تعمیر کی ہے جماعت کی خواہش ہے کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ از راہ شفقت اس کا افتتاح فرما دیں تا کہ مقامی جماعت کی حوصلہ افزائی ہو۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی درخواست قبول فرمائی اور اُس جماعت میں تشریف لے گئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو اپنے درمیان دیکھ کر جو حالت وہاں کے احمدی احباب کی ہوئی اُس کیفیت کو بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” جب میں گیا ہوں تو میں نے دیکھا ہے۔وہاں پھر ان کے اخلاص و وفا کا اندازہ ہوا، پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا۔یہ لوگ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔لگتا ہے اُن کے اندر سے پیار پھوٹ رہا ہے۔بہر حال جب وہاں پہنچا تو میں نے بڑا شکر کیا کہ میں آگیا۔امیر صاحب کی بات مان لی کیونکہ وہاں ساری جماعت انتظار میں کھڑی تھی۔ان کو یقین تھا کہ ضرور آؤں گا۔مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہر بچے، بوڑھے ، جو ان کی یہ خواہش تھی کہ مصافحہ کرے عورتیں بھی چاہتی تھیں کہ قریب سے ہو کر دیکھیں۔وقت کی کمی کی وجہ سے مصافحہ تو ممکن نہیں تھا لیکن جو زور لگا کر کر سکتے تھے انہوں نے کر لیا۔میں نے مسجد میں جب انہیں تھوڑی دیر کے لیے کہا کہ خاموش ہو کے بیٹھ جاؤ تو تب سارے احمدی جو سینکڑوں کی تعداد میں تھے وہ خاموش ہوئے۔جب انہیں کہا کہ پروگرام میں یہاں آنا شامل نہیں تھا اور صرف تمہاری وجہ سے یہاں آیا ہوں تو اُس کے بعد جو اُنہوں نے فلک شگاف نعرے لگائے ہیں! لگتا تھا کہ مسجد کی چھت اُڑ جائے گی۔اُن کے نعرے سنے اور کچھ میں نے اُن سے باتیں کیں۔جوش ٹھنڈا ہوا تو پھر اُن سے اجازت لے کر وہاں سے آیا۔“ (خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ بیان فرمودہ 9 مئی 2008ء۔الفضل انٹرنیشنل 30 مئی تا5 جون 2008 صفحہ 8 ) جلسہ سالانہ امریکہ کے آخری دن کے خطاب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دورہ افریقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: بہت سے لوگ بڑی قربانیاں کر کے جلسہ میں شامل ہونے کے لیے پہنچے تھے۔بعض ہمسایہ ممالک سے بھی آئے حقیقت میں بہت سے ایسے تھے جن کے پاس کرا یہ تک نہ تھا اور کچھ ایسے تھے جن کے پاس کپڑے بھی نہ تھے۔جو کچھ بھی ان کے پاس تھا اسی میں