تأثرات — Page 95
89 تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لیے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔‘ (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 - صفحہ 305) ہم نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو ، اس خوش خبری کو ہمیشہ گزشتہ سوسال میں سچا ہوتے دیکھا اور دیکھتے رہے۔خلافت اولی کے وقت لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ہو گئی ہے اب احمدیت چند دن کی مہمان ہے۔پھر خلافت ثانیہ میں جب اندرونی فتنہ بھی اٹھا اور ایسے لوگ جو خلافت کے منکر تھے ان کو پیغامی بھی کہا جاتا ہے اور لاہوری بھی اور غیر مبایعین بھی۔انہوں نے بہت زور لگایا کہ انجمن اب حق دار ہونی چاہیے نظام جماعت کو چلانے کی اور خلافت کی کوئی ضرورت نہیں۔حضرت مصلح موعود کی عمر اس وقت صرف چوبیس سال تھی اور بڑے بڑے پڑھے لکھے علما اور دین کا علم رکھنے والے اور جو اس وقت اسلام کے، احمدیت کے، نظام جماعت کے ستون سمجھے جاتے تھے اس وقت علیحدہ ہو گئے اور کچھ لوگ حضرت خلیفتہ ایح الثانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے لیکن ہم نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا باون سالہ دورِ خلافت ہر روز ترقی کی ایک نئی منزل طے کرتا تھا۔آپ کے دور میں افریقہ میں مشن کھلے، یورپ میں مشن کھلے اور خلافت کے دس سال بعد ہی یہاں لندن میں آپ نے اس مسجد کی بنیاد بھی رکھی۔پھر خلافت ثالثہ کا دور آیا۔اس میں بھی خاص طور پر افریقن ممالک میں اور ان افریقن ممالک میں جو انگلستان کی ایک کالونی رہی کسی زمانے میں ، ان میں احمدیت خوب پھلی اور کافی حد تک Establish ہوگئی۔پھر خلافت رابعہ کے دور میں ہم نے ہر روز ترقی کا ایک نیا چکر دیکھا۔افریقہ میں بھی، یورپ میں بھی اور ایشیا میں صرف ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا کے کونے کونے تک جماعت کی آواز پھیلی۔تو یہ ترقیات جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دوسری قدرت کا آنا ضروری ہے کیونکہ وہ دائمی ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے اور ہمیشہ وہی چیزیں رہا کرتی ہیں جو اپنی ترقی کی منازل بھی طے کرتی چلی جائیں۔تو اللہ تعالی کے فضل سے خلافت کی وابستگی کی وجہ سے جماعت ترقی کرتی چلی گئی اور خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ