تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 73

تصدیق براہین احمدیہ ۷۳ میں تغیر بھی جگہ نہ پائے ہاں موت اگر ایک خاص تغیر ہے جو مخلوق پر آنے والا ہے جیسے قرآن کریم میں ہے۔كُلِّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ (الرحمن: ۲۷) كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص:۸۹) تو ممکن ہے کہ مکذب کی بات کچھ بن جاوے البتہ جنت میں پہنچ جانے والے تنزل کا تغیر نہ پاویں گے۔ان کا تغیر ترقی کی طرف ہوگا اس واسطے باری وعدہ فرماتا ہے۔وَلَدَيْنَا مَزِيدُ (۳۶:3) کیمسٹری والوں کا یہ اصول کہ مرکب ایک حالت پر نہیں رہتا بے شک صحیح معلوم ہوتا ہے۔66 مکذب کا دعوئی۔(۱) پر میشور قدیم ہے اور اس کی سب صفات، علم اور ارادہ قدیم ہے (۲) اس واسطے اگر روحیں انادی نہ مانی جاویں تو خدا کی صفات زائل ہوتی ہیں۔اس پر دلیل یہ ہے (۳) چونکہ یہ امر مسلم فریقین ہے کہ پر میشور اور اس کی سب صفات علم اور ارادہ قدیم ہیں۔اس واسطے اس پر بحث کی ضرورت نہیں (۴) اور اگر قدیم نہ مانا جاوے تو حادث ماننا پڑے گا۔پر میشور جو مالکیت رازقیت اور عادلیت میں رحیم اور کریم وغیرہ صفات سے موصوف ہے۔کیا یہ صفات جدید اور حادث ہیں (۵) کیونکہ اگر روحیں قدیم نہیں تو سب صفات خدا تعالیٰ بھی قدیم نہیں رہیں گی۔جو بموجب (۸، ۹ ۱۰ علوم متعارفہ ) کے ناممکن ہے‘ (۶) اس واسطے روحیں قدیم اور انادی ہیں (۷) اور انادی پر تمان کی انادی قدرت اور قبضہ میں موجود ہیں‘ (۸) ''حادث نہیں اور یہی ہمارا دعوی تھا“۔66 مصدق۔جواب دینے سے پہلے اتنا کہہ دینا بے موقع نہ ہو گا کہ میں نے تسہیل کی خاطر مکذب کے فقروں پر علیحدہ علیحدہ نمبر دیے ہیں اور یہ امر بھی مدنظر رکھا ہے کہ اس کے قول کی بار بار نقل کرنے کی ضرورت نہ رہے مکذب کا یہ دعوئی دو جزو پر منقسم ہے دعوے کی جز واول کی دلیل یہ دی ہے کہ دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ جز و مسلّم فریقین ہے اس کو بحث سے بے نیازی حاصل ہے لے ہمارے ہاں تو ترقی ہی ترقی ہے۔