تصدیق براھین احمدیہ — Page 72
تصدیق براہین احمدیہ ۷۲ باری تعالیٰ کے گیان میں بھی ان کا وجود تھا۔غرض وید دونوں جگہ موجود تھے۔یہ نہیں کہ ابتداء باری تعالیٰ کے علم میں تھے اور جب باری تعالیٰ نے ان چار رشیوں کو سکھلایا اور ان کے گیان میں ویدوں کو پرکاش کیا تب خود جاہل ہو گیا اسی طرح الہی معلوم جو الہی علم میں موجود ہوتا ہے جب خارجی وجود سے موجود ہو جاوے علمی وجود سے اس کا معدوم ہو جانا ممکن نہیں ہاں خارجی وجود سے پہلے صرف وہ معلوم علمی وجود سے موجود تھا۔پھر جب سے خارجی وجود عطا ہوا تو دونوں وجودوں سے موجود ہے۔گیارہواں علم۔”جو پیدا نہیں ہوا وہ نہیں مرے گا اور جو پیدا ہوا ہے وہی مرے گا “۔مصدق۔یہ علم علوم متعارفہ میں سے دو جملوں پر منقسم ہے۔اس علم کا دوسرا جملہ مکذب نے یا تو کسی اپنے معمولی خیال پر لکھ دیا ہے۔کیونکہ مکذب اور ان کے سماجیوں کا خیال ہے جو پیدا ہوا وہ ضرور مرے گا اور مانتے ہیں کہ ہر حادث کو فنا ضروری ہے۔اگر چہ اس جملے کے الفاظ سے یہ مضمون نہیں نکلتا۔کیونکہ اس جملے میں ضرورت کا لفظ موجود نہیں۔الا مکذب کی روش سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہی معنے لیے ہیں یا اس معہود فی الذہن جملے کا یہ منشا ہے کہ فنا اسے ہی ہے جس کو وجو د ملا اور جو پیدا ہوا ہو تو بات سچ ہے یعنی اگر فنا طاری ہوئی تو اسی حادث پر ہی طاری ہوگی جس کا وجود کہیں سے آیا اور اگر پہلے معنے لئے ہیں کہ جو چیز پیدا ہوئی اور جس کو وجود ملا وہ ضرور فنا ہوگی۔تو اول تو یہ جملہ اس مضمون کا مثبت نہیں۔دوم اس معنے پر یہ جملہ غور کے قابل ہے۔بلکہ اپنے عموم پر غلط ہے اس لئے کہ فنا کے معنی اگر بالکل معدوم ہو جانے کے لیں تو جملہ قابل برہان اور ثبوت طلب ہے۔کیونکہ ممکن اور محتمل ہے کہ خالق کسی مخلوق چیز کو خارج میں بالکل معدوم نہ کرے۔کون امر اس احتمال کو روک سکتا ہے؟ پس ہر ایک جو پیدا ہوا وہ ضرور نہ مرا!۔مثلاً اجسام کی نسبت ہم کہتے ہیں کہ وہ مرکب اور مخلوق ہیں اور مرکب کو تغیر ہوتا رہتا ہے۔اس طرح اجسام کو تغیر ہوتا رہے گا کلی فنا على العموم ان پر طاری نہ ہوگی۔بلکہ ممکن ہے کہ اللہ تعالی کسی چیز کو پیدا کر کے فنانہ کرے حتی کہ اس