تصدیق براھین احمدیہ — Page 34
تصدیق براہین احمدیہ ۳۴ چہارم اب اثبات معجزہ لیجیئے اور جب معجزہ ثابت ہو گیا تو بھی آپ کا اعتراض اٹھ گیا۔یہاں میں نے معجزہ کے معنے خرق عادت بھی مان لئے ہیں۔مگر بغور پڑھیئے۔آپ کو تواریخ عرب سے عیاں ہوگا کہ حضور (فداہ ابی و امی ( صلی اللہ علیہ وسلم یتیم رہ گئے تھے۔جس ملک میں آپ نے وعظ شروع کی وہاں کی بت پرستی ایک خطرناک تھی اور وہاں جس قدر لوگ آباد تھے قریب گل اس میں گرفتار تھے اور اس پر بھی جیسا بت پرستی کا لازمہ ہے سخت کندے ناتراش اور ضدی جاہل تھے۔عرب کے حدود و اطراف کا حال دنیا جانتی ہے مشرق میں ایک طرف یہی آپ کا آریہ ورت تھا آپ اچھی طرح اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان دنوں میں اس آریہ ورتا کی کیا حالت تھی اور اب تک ہے۔مگر آئندہ امید ہے کہ جیسا اسلام کے فیض و برکت سے کسی قدر بت پرستی کی گھنونی عادت کو چھوڑا ہے کامل موحد دیندار بھی ہو جائیں گے دوسری جانب پارسی تھے جنہوں نے سیارہ پرستی اور یزدان اور آہرمن دو خداؤں کا ماننا ایمان سمجھ رکھا تھا۔شمال اور مغرب میں یہود اور عیسائی تھے جن کا تذکرہ گزر چکا اگر اور مطلوب ہے تو اس کے واسطے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ لو جس میں ان کی حالت کا خوب فوٹو کھینچا ہے۔المُتَرَ إِلَى الَّذِينَ أوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوْا سَبِيلًا (النساء:۵۲) اُن کے کامل نمونے ہمارے وطنی عیسائی بھائیوں کو دیکھ لو نو را فشاں میں کس زور وشور سے تکذیب کار یو یو دیا ہے اور محض بغض و عناد کی وجہ سے کتاب والوں (اہل اسلام) کے مقابلے میں مانی ہوئی بت پرست قوم کی ستائش میں فصاحت کو خرچ کیا ہے یہود کا بچھڑوں کی پوجا کرنا موسی کے سامنے کا واقعہ ہے اور بعد کی بت پرستی قاضیوں کی کتاب سے جو کتب مقدسہ میں کی ایک کتاب ہے پڑھ لیجیئے۔عیسائیوں کی بت پرستی ظاہر ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام جیسے خاکسار نیک بندے کو خدا یقین کرتے ہیں۔اگر بیٹا کہتے ہیں تو اول مسیح کو خدا کا ازلی بیٹا اور خود خدا ہاں ذاتاً خدا لے دیکھتے ہو ان کو جن کو کتاب سے بہرہ ملا وہ شیاطین اور ناپاک روحوں پر اعتقاد لارہے ہیں اور (ضد میں ) کافروں کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ مومنوں سے اچھی راہ پر ہیں۔