تصدیق براھین احمدیہ — Page 280
تصدیق براہین احمدیہ ۲۸۰ تناسخ مانے والوں کے پاس نہیں۔بلکہ صرف اس لئے کہ سکھی آسودہ اور آرام والے کے سکھ، آسودگی اور آرام کی وجہ اور دکھی بیمار، رنج والے کے دکھ، بیماری، رنج کی وجوہ اور ان لوگوں کے باہمی تفرقہ کےاسباب تناسخ ماننے والوں کو معلوم نہیں ہوئے اس واسطے کہ ان لوگوں نے یقین کر لیا کہ سابقہ اعمال ہی اس تفرقہ کا باعث ہیں۔پر شکریہ اس رب العالمین کا جس نے اسلامیوں کو ایسے دلائل سے بچنے کے واسطے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا۔ولا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيْكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا (بنی اسرائیل: ۳۷) دوسرا جواب۔اپنی کم علمی اپنی کم نہی اور کمزوری سے تفرقہ کے اسباب رنج اور راحت کے موجبات اور سامان نہ جاننے سے یہ اعتقاد کر لینا کہ ان تفرقوں کا باعث ہمارے پہلے جنم کے اعمال ہی ہیں گویا بے وجہ تو یہ ایک چیز کوکسی دوسری چیز کا سبب قرار دے لینا ہے۔اور یہ جرات اس قسم کی ہے کہ ہم کسی آدمی کو اندھیری رات میں کہیں جاتا دیکھیں اور اپنے ہی آپ میں یہ سوچ لیں کہ اس وقت کچہریاں بند ہیں بازار بند ہیں پس بجز اس کے کہ یہ آدمی اس وقت صرف چوری کرنے جاتا ہے اور کوئی وجہ نہیں۔عقل والے سوچ لیں یہ کیسی منطق اور لاجک ہے اسی واسطے قرآن کریم نے تناسخ ماننے والوں کی نسبت فرمایا ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ انکل بازی میں پڑے ہیں۔وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ (الجاثية: ۲۵) لے اور جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے مت لگ کیوں کہ کان، آنکھ اور دل سب سے سوال کیا جاوے گا۔ہے اور وہ کہتے ہیں یہی دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے ہیں اور زندے ہیں اور زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے۔اس بات کا ان کو علم نہیں یہ انکل لگاتے ہیں۔