تصدیق براھین احمدیہ — Page 219
تصدیق براہین احمدیہ ۲۱۹ وَقَضَى رَبُّكَ الَّا او مخاطب ! تیرے مربی اور محسن پالنے والے والی کا حکم تو یہ ہے کہ تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاه اس کے سوا کسی کی پرستش اور فرمانبرداری نہ کی جاوے اور ماں باپ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا سے پورا نیک سلوک ہو۔اگر او مخاطب ! تیرے جیتے ہوئے والدین إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا اور بوڑھے ہو جاویں ایک یا دونوں۔تو خبر دار کبھی ان سے کسی قسم کی كِلَهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا کراہت نہ کر بیٹھو۔اور نہ کبھی ان کو جھڑ کیو۔اور ان سے پیاری أَفْ وَلَا تَنْهَرْهُمَا میٹھی نرم ادب کی باتیں کیا کرنا۔ان کی پرورش دنیا داری کے وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا لحاظوں سے نہیں بلکہ صرف دلی محبت و پیار سے اس طرح کرنا جس الدُّلِ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل طرح پرندے اپنے بچوں کو پروں میں پرورش کے لئے لیتے ہیں۔رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا اور خدا سے یوں دعائیں مانگنا۔اے میرے رب ! ان سے اس رَبَّيْنِي صَغِيرًارَ بكُم طرح رحم کے سلوک کر جس طرح انہوں نے میرے لڑکپن میں أَعْلَمُ بِمَا فِی نُفوسِكُف پرورش فرمائی۔غرض جیسے والدین تیرے لڑکپن میں تیرے ہمدرد وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ إِنْ تَكُونُوا تھے ایسا ہی تو ان کے لئے ہو۔سنو مخاطبو! تمہارا پرورش کرنے والا صلِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا تمہارے دلوں کے بھید جانتا ہے۔پس وہاں ریا اور دکھلاوا کام نہیں وَاتِ ذَا الْقُرْبی آتا۔اگر سچ سچ کے نیک ہو تو وہ خدا ہمیشہ ہی اپنی طرف رجوع مسكين حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ لانے والوں کو بخشنے والا ہے۔او مخاطب ! ہر ایک رشتہ دار اور وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا اور مسافر کو جو کچھ اس کا حق ہے دے دے۔اور اپنی نفسانی تُبَذِرْ تَبْذِيرًا إِنَّ خواہشوں پر ، فخر پر اور بڑائی کے لئے اور بے ایمانی کے کاموں میں الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطين اموال کو ضائع مت کر، ناجائز طور پر مالوں کو ضائع کرنے والے قال کا لفظ عرب میں افعال پر بھی بولتے ہیں۔