تصدیق براھین احمدیہ — Page 19
تصدیق براہین احمدیہ ۱۹ برہموں کے ساتھ اس لئے بھی شریک نہ ہوئے کہ ذات پات کا امتیاز جو بدظنی ، تکبر اور باہمی تنظر کا منشاء ہے اور بنی نوع کے اتحاد میں سخت خلل انداز ہے، چھوڑ نہ سکے، بلکہ میں کہتا ہوں دفعی جذب اس واسطے بھی نصیب نہ ہوا کہ دل صرف اللہ تعالیٰ کا طالب نہ تھا۔دنیوی آسائش اور نیشنیلٹی کا خیال قوت ایمانیہ پر غالب آ گیا۔ایسے ہی اسباب نے نور فطرت اور سلیم کانشنس کی بینائی کو دھندلا کر دیا اور آخرت یا پیچھے آنے والی حالت پر دنیا یا موجودہ خیالی راحت کو ترجیح دے دی۔سبحان الله !!! کسی زمانہ میں آخرت کو دنیا پر ترجیح تھی اور دنیا ایک فانی اور محض خواب خیال سمجھی جاتی تھی اور اب اس زمانہ میں نو جوانوں کالجیروں اور ان کے ہم خیالوں میں عام طور پر دیکھا جاوے (إِلَّا مَنْ عَصِمَهُ الله ) تو صرف چند روزه دنیوی آسائش ہی نجات اور آرام کی جگہ ہے۔ان نے جاگنے والوں نے قصہ مختصر اسلام کے قریب آتے آتے روگردانی اور اجتناب کیا۔معلوم ہوتا ہے اور یقینا ہے بھی یوں ہی کہ کسی شریر کی یہ خواہش آنظِرْنَ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ (الاعراف:۵) منظور ہوگئی۔اس منظوری میں کیا حکمت ہے؟ یہ ایک جدا بحث ہے اور یہ فرمان بالکل سچ ہے کہ اُسے کہا گیا۔فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ إلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (الحجر:۳۹،۳۸) مگر تعجب ہے! اس گروہ نے جس کتاب کو کافی ہدایت نامہ یقین کیا اس کے پورے سمجھنے والے پنجاب کے منتہا تک نظر کرو کہیں نہ ملیں گے۔ویدک سنسکرت کی عبارت بھی نہیں پڑھ سکتے۔ے مجھے کو بعثت کے دن تک مہلت دے۔یقینا تجھے وقت معلوم کے دن تک ڈھیل دی گئی۔