تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 197

۱۹۷ تصدیق براہین احمدیہ تیترے اپنیشد کا بچن ہے۔انتھی تنقیہ نمبرے۔پھر صفحہ نمبر ۸ میں کہا ہے۔اس تمام عالم مجسم کا ظہور نمت کا رن پر کرتے یعنی علت فاعلی پر میشر سے ہے۔انتھی پھر صفحہ نمبر ۲۷ میں لکھا ہے۔یہ بھی واضح ہو کہ ویدانتی یعنی آریوں کے فلاسفر پر میشر کو واحد الوجود مانتے ہیں یعنی جو کچھ ہے اللہ ہی اللہ ہے ماسوا کچھ نہیں ، صفحہ نمبر ۳۰ میں لکھا ہے ارجن سرشٹی کا آد( ابتدا) اور مدہ (اوسط) اور انت (آخر) میں ہوں۔ودیاؤں (علم) میں برہم ودیا ( عرفان البی) چر چا( تذکرہ) کرنے والوں میں یاد میں ہوں“۔مدہ کا لفظ جس کے معنی اوسط کے ہیں بہت ہی توجہ کے قابل ہے صرف پر میشر ہی یہ تمام دنیا ہے۔جو کچھ ہو چکا ہے وہی تھا جو کچھ ہوگا وہی ہو گا ر گوید بھاگ ۲ سکت۹۰ منتر دوم ”سین اچارج کہتے ہیں۔جو کچھ گزشتہ زمانوں میں تھا پر میشور تھا۔جو کچھ اب موجود ہے پر میشر ہے آدمیوں کے جسم جواب موجود ہیں اور گزشتہ زمانوں میں زندہ تھے تمام پر میشور ہیں اور تھے جو کچھ آئندہ زمانوں میں ہوگا وہ بھی پر میشر ہے۔وہ دیوتاؤں کا دیوتا ہے۔اس چیز سے جو لوگ کھاتے ہیں وہ نشو ونما پاتا ہے اور دنیا بھی اس کے ساتھ بڑھتی ہے۔مایا کے سبب چیزیں مختلف نظر آتی ہیں۔لاکن دراصل ہر ایک شی پر میشر ہے برہم کے تین حصہ اس دنیا سے پرے ہیں۔اس کا ایک حصہ تمام دنیا ہے یہی تمام ہے جو اس کے ایک حصہ سے بنا ہے منتر ہ“۔پھر سنو! تنقیہ دماغ کا مصنف آریہ کیا کہتا ہے۔” بموجب قرآن کے صرف اس قدر تو حید ہے کہ پیدا کرنے والا ایک ہے دو نہیں ہیں مگر بمقابلہ خدا کے دوسری موجودات مخلوق کے وجود سے انکار نہیں کیا گیا۔گو اس نے ہی گھڑے پیدا کئے ہوں۔مگر اس کے مقابلہ میں اسے علیحدہ موجود ہونا اور تا ابد موجود رہنا اہل اسلام کے یہاں ثابت ہے۔جب اسے علیحدہ دوسری چیز کا موجود ہونا ثابت وظاہر ہے تو پھر تو حید کہاں یہ تو دوئی ہوگئی۔تنقیہ صفحہ نمبر ۲۸ اب میں ان دونوں آیات کا مطلب سناتا ہوں۔مگر بیان شروع کرنے سے قبل مختصر سی تمہید کا لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے جب دو یا کئی چیز میں با ہم کسی امر میں شریک ہوتی ہیں اور کسی امر میں مختلف ہوتی ہیں تو ظاہر ہے کہ امر مشترک کے احکام میں ان مشتر کہ اشیا کو اتحاد ہوگا۔اور جن