تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 193 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 193

تصدیق براہین احمدیہ ۱۹۳ مسلمانوں میں ایک گھرانے کے آدمیوں کو دیکھتے ہیں۔ایک کا نام عبد اللہ ہے دوسرے کا نام عبدالرسول۔تیسرے کا نام فضل الرحمن۔اور پھر چوتھے کا نام کرامت حسین فَاِنَّا لِلَّهِ عَلَى حَالَةِ الْإِسْلَامِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ایک مسلمان اللہ دتا ہے تو اس کے دوسرے بھائی کا نام نعوذ باللہ منہا پیراں دتا ہے۔تیسرا دعوی مکذب کا یہ ہے کہ آیت يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِم (الفتح : 1) میں حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے۔میرا ہاتھ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔خاکسار کہتا ہے۔یہ دعوی مکذب کا بالکل افترا اور بہتان ہے۔قرآن شریف کی کسی آیت میں ہرگز ہرگز ، ہرگز موجود نہیں کہ سید نا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ میرا ہاتھ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ اِنْ تَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا (الكهف : ۲) جس آیت سے یہ استدلال کیا ہے۔اس کے معنی صاف ہاں بالکل صاف ہیں کیونکہ ید اللہ کے معنی عربی زبان میں (۱) ید الله یعنی انعامه تعالى (۲)يد الله یعنی نصرته تعالى (۳) يَدُ اللهِ صِفَةٌ مِنْ صِفَاتِهِ تَعَالَى الَّذِى لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ - (الشوری:۱۲) جیسے میرا اعتقاد ہے ان محاورات پر آیہ شریفہ کے معنے ہوئے۔(1) يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ اللہ تعالیٰ کا انعام ان لوگوں کے انعامات کے اوپر ہے۔(۲) اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کی امداد ان لوگوں پر ان لوگوں کی نصرت اور امداد سے اوپر ہے۔(۳) اللہ تعالیٰ بے مثل کی صفت ید۔ان لوگوں کی صفت ید کے اوپر ہے۔حیرانی کی بات ہے کہ اس میں اشکال ہی کیا ہے !ہاں اگر یوں ہوتا کہ يَدِى وَهِيَ يَدَ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ تو کسی قدر اعتراض کا موقع ہوتا۔ہم اس آیت اور پہلی آیہ کی تشریح آگے کریں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ چوتھا اعتراض۔اور دعوی یہ کیا ہے ”آخری وقت میں حضور کو خدا بننے کا خیال آیا“۔خاکسار کہتا ہے تمام دنیا میں توحید کے واعظ آئے اور انہوں نے اپنی قوم کو شرک سے روکا۔تو حید الوہیت کی طرف بلایا آخر کچھ زمانہ کے بعد وہی ہادی معبود بنائے گئے۔دور نہ جاؤ صرف حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی حالت پر غور کر لو کہ اس خا کی نہاد انسان کو کیسا آسمان پر اٹھایا گیا۔