تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 192 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 192

تصدیق براہین احمدیہ ۱۹۲ اس لئے مشرک کہلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے سوا اور مخلوق کی بھی پرستش کرتے ہیں وہ بالکل اللہ تعالیٰ کے منکر یا اس کی پرستش کے منکر نہیں ہوا کرتے حق پرستی کے ساتھ بت پرستی بھی کرتے ہیں ان کی عبودیت خالصہ عبودیت نہیں ہوتی۔معبودیت کی صفت میں باری تعالیٰ کو یکتا نہیں رکھتے خدا کو بھی معبود جانتے ہیں اور اپنے بتوں کو بھی معبود بناتے ہیں اسی واسطے مشرک کہلاتے ہیں۔مثلاً ہم لوگ عامہ ہنود کو اس واسطے مشرک کہتے ہیں کہ وہ باری تعالیٰ کو بھی معبود جانتے ہیں۔اور سری کرشن چندر۔اور سری رامچند رجی گنیش جی وغیرہ وغیرہ کی بھی پرستش کرتے ہیں۔اور دیانندی آریہ کو اس لئے یقیناً مشرک سمجھتے ہیں کہ وہ باری تعالیٰ کو غیر مخلوق مانتے ہیں اور اسی صفت میں ارواح اور ارواح کے گن کرم اور سبھاؤ یعنی ارواح کے خواص افعال عادات کو بھی غیر مخلوق اعتقاد کرتے ہیں پر مانو اور ان کے گن کرم اور سبھاؤ کو بھی غیر مخلوق بتاتے ہیں !!! اور زمانہ کو بھی غیر مخلوق کہتے ہیں۔باری تعالی دیانندیوں کے نزدیک مطلق انو ہم نہیں بلکہ اور اشیا بھی اس کی اس صفت میں شریک ہیں۔تَعَالَى شَأْنُهُ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا - بِنَاءً عَلى هذا۔دیانندی آریہ مشرک ہیں اور پکے مشرک ہیں۔یادر ہے مسلمان جنت دوزخ ارواح وغیرہ کو اُن معنی پر ابدی نہیں کہتے جن پر باری تعالیٰ کو ابدی کہتے ہیں۔مسلمان قوم کے نزدیک ان اشیا کا وجود ممکن اور باری تعالیٰ کا وجود واجب ہے۔ان اشیا کا وجود باری تعالیٰ کی عطا اور اس کا ایجاد اور اس کی خلق ہے باری تعالیٰ کا وجود کسی کا عطیہ نہیں کسی کا ایجاد نہیں کسی کی مخلوق نہیں ان اشیاء کا وجود اسلام کے نزدیک وجود اور بقا دونوں میں جناب باری تعالیٰ کا محتاج اور باری تعالیٰ مِنْ كُلِّ الْوُجُوه غنی ہے۔وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ (محمد: ۳۹) قرآن کریم کی آیت ہے۔غرض حضور کے والد ماجد کا عبداللہ نام رکھنے سے گو حضور کے مشن اور صداقت کی عمدہ فال ہے مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ عرب لوگ بت پرست اور مشرک نہ تھے! ہم یہاں ہندوستان یا آریہ ورت میں دیکھتے ہیں بعضے ہندی، آریہ ورتی اپنے بچوں کا نام ہری داس، برائن داس ، رام داس رکھتے ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں بلکہ ا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (الاخلاص : ٤) - لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری:۱۲)