تصدیق براھین احمدیہ — Page 166
تصدیق براہین احمد به ۱۶۶ اور کیا وہ اللہ تعالیٰ جس کی ذات بابرکات نے جسمانی ظلمتوں میں تمہارے آرام کے واسطے ایسے جسمانی سامان بنائے ہیں جن سے تم آرام پاؤ بشرطیکہ ان کی طرف توجہ کرو اس نے تمہارے ابدی آرام اور روحانی راحتوں کے واسطے تدابیر نہ رکھی ہوں گی؟ بے ریب رکھی ہیں۔جسمانی لیل اور چند گھنٹوں کی رات میں اگر کوئی راہنما ستارہ موجود ہے تو اس روحانی لیل اور غموم اور ہموم کی نہایت بڑی لمبی رات کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل نے تمہاری منزل مقصود اور جاودانی آرام تک پہنچانے کا راہ نما بھی ضرور رکھا ہو گا۔وہ کون ہے؟ بے ریب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ثبوت مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى (النجم: ۳) وجہ ثبوت اپنے ہی ملک میں ذرا تجربے اور بلند نظری سے کام لو۔نظر کو اونچا کر کے دیکھو۔یہ شخص تمہارے شہر کا تمہارا ہم محبتی جس کا نام محمد، احمد ، امین ہے اور جس کو تمہارے چھوٹے بڑے انہیں پیارے ناموں سے پکارتے ہیں کیسا ہے؟ کیا تمہارے لئے کافی راہ نما نہیں؟ بے ریب ہے۔کیونکہ نظریات کا علم ہمیشہ بدیہات سے ہوتا ہے اور غیر معلومہ نتائج پر پہنچنا ہمیشہ معلومہ مقدمات سے ممکن ہے۔نہایت بار یک فلسفی کا پتہ عامہ قواعد سے لگتا ہے۔جانتے ہو۔کسی انسان کو انسان کامل یقین نہ کرنے کے تین سبب ہوتے ہیں۔اول یہ کہ تم اس شخص کے حالات سے پورے واقف نہیں جس نے ہادی اور انسان کامل ہونے کا دعویٰ کیا۔دوم یہ کہ وہ شخص جس نے ہادی اور انسان کامل ہونے کا دعوی کیا اسے علم صحیح نہ ہو۔سوم یہ کہ با وجود علم صحیح رکھنے کے اس کی عادت ایسی ہو کہ علم صحیح پر عمل نہ کرے سواس رسول خاتم الرسل محمدصلی اللہ علیہ وسلم میں ان تینوں عیوب میں سے ایک بھی نہیں مَاضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى (النجم:۳) یعنی نہ بھولا اور نہ بے علمی سے کام کیا تمہارے ساتھ رہنے والے نے اور نہ کبھی علم صحیح کے خلاف کرنے کا ملزم ہوا۔پہلی وجہ عدم تسلیم کا جواب تو یہ ہے کہ چالیس برس کامل کے تجربہ سے دیکھ لو۔یہ شخص محمد امین (بابی و امی صلی الله علیه و سلم ) بھلا اس میں کوئی عیب رکھنے کی بات ہے۔دوسری وجہ کا جواب یہ ہے کہ مَاضَل جس کے معنی ہیں کبھی نہ بھولا ہمیشہ تمہاری