تصدیق براھین احمدیہ — Page 146
تصدیق براہین احمد به ۱۴۶ میں کہتا ہوں صاحب اعجاز محمدی نے یونانی لغو فلسفہ سے منع کیا۔جو غالباً ہندیوں بلکہ ایرانیوں کی کاسہ لیسی کا بد نتیجہ ہے۔والا قرآن سے فلسفے کی تاکید کرتا ہے اور نیچر کے نظارہ پر کبھی فرماتا ہے اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (النحل: ۱۲۔اور کبھی فرماتا ہے لایت لِلْعَلِمِينَ (الروم: ۲۳) کسی وقت فرماتا ہے لایت لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الرعد:۵) اور کہیں فرماتا ہے اِنَّ فِي ذَلِكَ لايتٍ لِأُولِي النعلی (طه: ۵۵) اور کسی جگہ اشارہ کرتا ہے اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ (الزمر:١٠) ان نصوص کے بعد کوئی عقلمند منصف کہہ سکتا ہے کہ قرآن یا اسلام کا پہلا اصل یہ ہے کہ عقل سے کام نہ لیا جاوے یا عقل کو صندوق میں بند کر کے اس پر قفل لگا دینا چاہیئے۔مولوی غلام علی صاحب مرحوم کا قصہ کہ ” یوشع بن نون کے قصہ میں سورج کا کھڑا ہونا مولانا مرحوم و مغفور بیان کر رہے ہیں۔اور اس وقت مکذب براہین نے اُن کو بند کر لیا۔ایک شخصی بحث ہے جو ہمیں پسند نہیں۔اور مولوی صاحب مرحوم کا اب انتقال ہو چکا ہے۔والا ہم ان سے دریافت کرتے کہ مکذب کہاں تک راست باز ہے حالانکہ نہار کا طول یا لیل کا طول جس کو سرمدیت لیل اور سرمدیت نہار کہتے ہیں۔ایک لطیف محاورہ ہے اور مکذب کے گرو ( پیشوا، دیانند ) کی اس تحقیق پر جس سے اس نے اگنی اور وایو اور سورج رشیوں کے نام رکھے۔اس قصہ کی توجیہ کچھ بھی دقت نہیں رکھتی۔مگر قرآن کریم میں یہ قصہ موجود نہیں ہے۔ہمیں یا مولوی صاحب مرحوم کو اس کے بیان کی ضرورت ہی کیا ہے؟ دواز دہم فضیلت کے بیان میں پھر تم کو آیت ذیل یاد دلاتا ہوں۔اللهُ وَلِى الَّذِينَ امَنُوا يُخْرِجُهُمُ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ (البقرة: ۲۵۸) اور خلوص نیت اور استقامت (استقلال) و درستی وسائل کے متعلق ان آیات پر غور کیجئے وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (البينة: ٢) اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ (حم السجدة: ٣١) اس منتر میں کتنی طول کلامی کرنی پڑی۔با اینکہ اثبات صانع کے دلائل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔مگر امر مجبوری ہے بے تکی ہانکنے والوں سے سابقہ پڑ گیا ہے اب لفظی ترجمہ اس منتر کا