تصدیق براھین احمدیہ — Page 145
تصدیق براہین احمد به ۱۴۵ روحانی صداقتیں تو قرآن کریم سے باہر نہیں۔مگر ہم تعریض کرنے والے سے یہ پوچھتے ہیں۔سوم لتا کے رس سے کس دیوتا کا پیٹ موٹا اور پھلایا جاتا ہے؟ وید کے عام پسند لفظی تراجم سے پتہ دیجئے۔اس منتر کی دسویں فضیلت میں لکھا ہے۔”حقیقی دعا اور شانتی (آرام) دینے والی اپاشنا ( عبادت ) وہی ہے جس کے کرنے سے اپا شک (عابد) کو شک نہ رہے جو اس کے حصول کے وسائل ہیں اول ان کا گیان نہایت لازمی ہے۔اور یہ بتانا اس مذہب کا ذمہ ہے جو کاملیت کا دعویٰ کرے۔پا شک کو شک نہ رہے۔کی نسبت تو آپ نے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ باری تعالیٰ اپا شک اور دعا کرنے والے سے قبولیت کا وعدہ کر لے جیسے تکذیب کے صفحہ ۶۴ سطر میں آپ نے لکھ دیا اور اس کے حصول کے وسائل کو صرف ترقی علم کی دعا میں منحصر کیا ہے جیسے تکذیب کے صفحہ ۶۲ سے ظاہر ہے۔مگر کیا تم لوگوں نے قرآن میں قبولیت دعا کا وعدہ اور ترغیب علم کی آیات نہیں پڑھیں؟ اچھا اب سن لو۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: ۱۸۷) وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجُةٍ (المجادلة:۱۲) قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (الزمر:١٠) اس منتر کی گیارہویں فضیلت میں مکذب نے کہا ہے۔جتنے مذہب ہیں عقل کو صندوق میں بند کر قفل لگانا اپنا پہلا اصول جانتے ہیں اور ان مذاہب میں سے فسٹ نمبر دین محمدی ہے۔مصنف اعجاز محمدی نے صفحہ ۱۹ میں معقول فلسفہ سے منع فرمایا ہے۔لے میں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے تو چاہئے کہ مجھ ہی سے قبولیت کی طلب کریں اور مجھ پر ایمان لا دیں تو کہ راہ پاویں۔اور کہہ اے میرے رب مجھے علم میں ترقی دے۔سے اللہ ایمان والوں اور عالموں کے درجے بلند کرے گا۔ہے تو کہہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں۔