تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 128 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 128

تصدیق براہین احمدیہ ۱۲۸ فاضل ، شجاع ، زبر دست ہو گیا ! سمندر کے کنارے بیٹھ کر سمندر کی تہ کی حالت دریافت کرتا ہے اور سمندر کی اشیاء پر حاکمانہ تصرف جمانا چاہتا ہے یہ خا کی پتلا اپنی چار دیوار میں بیٹھا ہوا سورج ، چاند اور آسمانی بروج کے قطر و محیط ناپنے کو تیار ہے یہ بجو بہ قدرت اگر بدن کے ذرات کو غور سے دیکھے تو بشرط سلامتی فطرت ضرور گواہی دے گا کہ اپنی خلق و بقا میں ہمہ تن ایک زبر دست علیم وحکیم کے قبضہ قدرت میں گرفتار ہے اور اس غنی ذات کا محتاج ہے جس کو کسی قسم کی احتیاج نہیں۔اس اثنا میں اسے اس آیت کی واقعی صداقت کا اعتراف کرنا پڑے گا۔يَا يُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللَّهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (فاطر: ١٦) بے ریب انسان اپنا خالق آپ نہیں۔نہ اس کے ماں باپ اور اس کے خویش اقارب نے جو اسی کی استعداد کے قریب قریب ہیں اس کو گھڑ کر درست کیا۔اپنی بدصورتی کوحسن سے بدلا نہیں سکتا۔اپنی طول و عرض پر متصرفا نہ دخل نہیں رکھتا۔معلوم نہیں کتنی مدت سے چھری لے کر اپنا پوسٹ مارٹم کر رہا ہے پر اس غریب کو اپنے بدن کے عجائبات کا بھی آج تک پتہ نہ لگا۔مائیکرس کوپ ایجاد کر کے کہتے ہیں پچھلوں نے پہلوں سے سبقت لی۔مگر عجائبات انسانی پر اور بھی حیرانی حاصل کی افعال الاعضاء کے محقق اور کیمیا گر اب تک کتاب قدرت کے طفل ابجد خواں ہیں۔صوفی ، یوگی ، الہیات، اخلاق، طبعی والے قوی انسانیہ کا بیان کرتے کرتے تھک گئے مگر احاطہ علم الہی سے قطعاً محروم چل دیئے اچھے فلاسفروں اور نیکو کار عقلاء کے گھروں میں ایسے جاہل کندہ نا تراش پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے مربیوں کی عمدہ عقل کو چرخ دے دیا! اور وہ بیچارے کف افسوس ملتے رہ گئے اور ان سے کچھ بھی نہ ہوسکا کہ اپنی اخلاقی ارث سے انہیں تھوڑا ہی سا بہرہ مند کر جاتے۔بڑے بڑے مدبر اپنے عندیہ میں تدابیر کے ہر پہلو پر لحاظ کر کے مناسب وقت اور عین موافق لوازم کو مہیا کرتے ہیں۔پھر نتائج سے محروم ہو کر اپنی کم علمی پر افسوس مگر قانون قدرت کے مستحکم انتظام کو دیکھ کر ہمہ قدرت ذات پاک کا لابد اقرار کرتے ہیں۔سلیم الفطرت دانا لے اے انسانوں تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی غنی حمد کیا گیا ہے۔