تصدیق براھین احمدیہ — Page 127
تصدیق براہین احمدیہ ۱۲۷ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کا تذکرہ بھی برابر کرتا رہتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس قسم کے تذکار سے ایمان اور اللہ تعالیٰ کی محبت دونوں میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔(۴) ہر ایک انسان اپنی فطرت اور جبلت پر مکلف ہے پس فطری دلائل ہی اصلی اور صحیح دلائل ہوں گے۔(۵) آیات اور علامات کسی چیز کے وہ ہوتے ہیں جن کے وجود سے اس چیز کے وجود کا یقینی پتہ لگتا ہے۔جس کے واسطے یہ آیات اور علامات دلیل ہیں نشان اور علامت کسی چیز کی اپنے مدلول کے اثبات میں کسی وجہ کلیہ قضیہ کی محتاج نہیں ہوتی۔اسی واسطے قرآن مجید جن دلائل کو بیان کرتا ہے ان کا نام آیات رکھتا ہے۔میں نے دلائل نبوت میں بارہا بیان کیا ہے کہ قرآن کریم نے اثبات نبوت میں بھی بجائے لفظ معجزہ اور خرق عادت کے آیات ہی کا لفظ اختیار فرمایا ہے۔انسان جہاں تک بنظر تحقیق تجربہ کرتا جاوے اور اپنی گرد و پیش کی اشیاء کو اپنے کام میں لانے کی کوشش کرے اسے یقین ہوتا جائے گا کہ سَخَّرَ لَكُمُ مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا منه (الحانية: ۱۴) جس کتاب میں لکھا ہے وہ پاک کتاب علاوہ بریں کہ ہم کو تمام علوم مفیدہ اور فنون راحت بخش کے سکھلانے کی راہ دکھاتی ہے یہ بھی واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ بے ریب اس کتاب کا بنانے والا تمام قدرتی اشیاء اور ان کے نتائج کا پہلے سے پورا عالم اور کامل خبیر تھا۔روز مرہ کے تجربے گواہی دے رہے ہیں۔انسان کے ارد گرد کی تمام چیزیں اس کے ماتحت اور اس کی خدام ہیں۔اس عجوبہ قدرت کی آسائش کے واسطے تمام ہمہ تن بے مزد حاضر ہیں۔انسان کیا بلحاظ اس روز افزوں ترقی کے جو اسے حاصل ہوسکتی ہے اور کیا با یں خیال کہ وہ اپنے جدیدہ علوم وفنون ابنائے جنس کو سکھا سکتا ہے کیا باعث اس سطوت اور تسلط کے جو اسے مخلوق پر محض فضل الہی سے حاصل ہے۔اگر اپنی پیدائش، اپنی ابتدائی حالت پر غور کرے تو اسے صاف عیاں ہو جائے گا کہ وہ کیسا ضعیف، بے بس، ناتواں اپنا مافی الضمیر ظاہر کرنے سے عاجز تھا۔پھر کیسا عالم،