ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 6
مقبول و مشہور ہوئے اور اب تک نہایت کثرت سے رائج ہیں اور بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق مرحوم ان تراجم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔یوں تو دونوں ترجمے لفظی ہیں لیکن شاہ رفیع الدین نے ترجمہ میں عربی جملہ کی ترکیب اور ساخت کی بہت زیادہ پابندی کی ہے۔ایک حرف ادھر سے اُدھر نہیں ہونے پایا۔ہر عربی لفظ بلکہ ہر حرف کا ترجمہ خواہ اردو زبان کے محاورے میں کچھے یا نہ تھے انہیں کرنا ضرور ہے۔شاہ عبد القادر کے ترجمہ میں اس قدر پابندی نہیں کی گئی ہے۔بلکہ وہ مفہوم کی صحت اور لفظ کے حسن کو بر قرار رکھنے کے علاؤ اردو زبان کے روز مرہ اور محاورے کا بھی خیال رکھتے ہیں۔دوسری خوبی ان کے ترجمہ میں ایجاز کی ہے یعنی وہ ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو کم سے کم الفاظ میں مفہوم صحت کے ساتھ ادا ہو جائے۔" ( (بحوالہ سیارہ ڈائجسٹ لاہور قرآن نمبر جلد دوم ق ) یہ ترجمے اس زمانہ میں ہوئے جبکہ اردو ادب کا کارواں اپنی ترقی و ارتقاء کے ابتدائی مراحل طے کر رہا تھا۔اُردو کو زیادہ تر دہلوی، ہندوی، ہندی، ریختہ اور ہندوستانی کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔اردو نثر کی کتا ہیں انگلیوں پر گنتی جا سکتی تھیں اور اہل قلم کو اس نئی زبان میں تصنیف و تالیف کرنے پر بہت تامل