ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 37
کے ایک ادیب و فاضل جناب طالب الہ آبادی مقدمہ ادب اردو میں لکھتے ہیں :- اگر غور سے دیکھئے توکسی زبان میں کوئی دو لفظ مرادف یا ہم معنی نہیں ہو سکتے۔یہ ممکن ہے کہ وہی خیال ایک سے زیادہ الفاظ میں ادا ہو سکے مگر ہر لفظ میں کوئی لطیف و مخصوص خوبیاں ہوتی ہیں مثلاً نوازش، عنایت، مهربانی ، کرم، احسان الطف قریب المعنی تو ہیں مگر ہر لفظ کی معنوی شان، خاص اثر مخصوص موسیقی جدا جدا ہے اور محل استعمال بھی مخصوص و مختلف ہے" ان کا فرق انسان نہیں۔اسی فرق کے لیے اور ہر لفظ کی مکمل تاریخ یعنی پیدائش، نشو و نما، استعمال، اثرات، ازدواج، مشتقات اور مفاہیم مختلفہ کی تحقیق کے لیے ایک مستقل فن ہے جس کو ہم علم اللسان کہتے ہیں۔ادیب کا سب سے پہلا فرض اور ادب کا اہم ترین جوہر یہی ہے کہ مذکورہ بالا ، متیازات خفی و لطیف سے پورا پورا آراستہ ہو۔کوئی لفظ کیا ، حرف کیا، نقطہ بھی اپنی جگہ تھے بانی کے برابر ہٹ کر استعمال نہ ہویا ر صفحه ۱۲۹۰۲۸ جب دنیا کی عام زبانوں کے کوئی دو لفظ بھی کامل طور پر سند ایسی نہیں تو خدا تعال کی کامل وکیل اور آخری شریعت کی اعجازی زبان کی تو حضرت بانی جماعت احمدیہ کی وریہ ایران تحقیق کے مطابق اسامی او را دوست بھی ہے کیا کیفیت ہوگی اور پھر دوسری بانوں