ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 33
۳۳ سیاق وسباق کے اعتبار سے موزوں ترین ہوں اور اس سلسلے میں عربی کے مشہور و متداول اور مستند لغات مثلا اقرب الموارد) مفردات راغب، تاج العروس ، مغنی اللبیب، لسان العرب اور فقہ اللغہ الثعالبی کو خاص طور پر پیش نظر رکھا ہے۔ترجمہ تفسیر صغیر کے لغوی محاسن میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں لغت کیساتھ ساتھ قواعد صرف ونحو کی پابندی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے شروع زمانہ خلافت ہی سے جماعت کے سامنے اپنا یہ مسلک پیش فرمایا تھا کہ ترجمہ قرآن کے وقت لغت اور صرف و نحو کے خلاف معنی کرنا ہرگزہ صحیح نہیں چنانچہ حضور نے جلسہ سالانہ الہ کی تقریر کے آخر میں ترجمہ قرآن کے جو سات اصول بیان فرمائے ان میں تفسیرے اور چوتھے نمبر پر بتایا کہ:۔جو معنی لغت عرب کے خلاف ہوں وہ بھی نہ کرو۔جو معنی صرف و نحو کے خلاف ہوں وہ کبھی نہ کرو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو صرف و نحو کی کیا پروا ہے ؟ وہ کسی کے بنائے ہوئے قاعدوں کا پابند نہیں ہے لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ کو تو پروا نہیں ہے لیکن ہم انسانوں کو تو ہے اگر اللہ تعالیٰ کی کلام ایسی نہیں ہے جو ہم سمجھ سکیں تو اس کا فائدہ کیا ؟ (برکات تلاقت ص۱۳۷ طبع اول) ترجمہ تفسیر صغیر میں لغات عرب اور قواعد صرف و نحو کا جو خاص اہتمام کیا گیا ہے ذیل میں اس کے چند نمونے ہدیہ قارئین کئے بجاتے ہیں۔استهزاء - عربی زبان میں جزائے جرم کے لیے بھی اس جوم کا لفظ