ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات

by Other Authors

Page 30 of 56

ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 30

سے اچھی اور پاکیزہ شے (۲) مَا يُفْضُلُ عَنِ النَّفَقَةِ وَلَا عُسُه عَلى صاحبه في إعطائه جو اپنے ضرور کی خرچ سے بچ جائے اور دینے والے کو اس کے دینے سے تکلیف نہ پہنچے (٣) يُقَالُ اَعْطَيْتُهُ عَفْوَ الْمَالِ أَى بِغَيْرِ مَسْتَكَتے۔یعنی عفو کے منے بغیر مانگے دینے کے بھی ہوتے ہیں (اقرب پہلے بھی ایسا ہی سوال گزر چکا ہے اور وہاں جواب دیا تھا کہ جو بھی سلال و طیب مال خرچ کر و مناسب ہے وہاں اقسام صدقہ کے متعلق سوال تھا یہاں کمیت کے متعلق سوال ہے یعنی کتنا ہے۔؟ سو اس کے جواب میں عضو کا لفظ استعمال کیا جو دو معنے رکھتا ہے اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں جن کی ایمانی حالت ادنی ہے اُن کے لیے یہ معنے ہیں کہ اس قدر صدقہ کرو کہ بعد میں تمہارے ایمان میں تزلزل نہ آئے اور تم دکھ میں نہ پڑ جاؤ۔دُکھ میں پڑنے کے اس جگہ یہ بھی معنے ہیں کہ بعد میں لوگوں سے مانگتا نہ پھر سے یا یہ کہ دین اور ایمان کو صدمہ نہ پہنچے۔دوسرا گروہ متوکلین کا ہے ان کے لیے یہ حکم ہے کہ اپنے مال کا بہترین حصہ خدا کی راہ میں دو۔ان لوگوں کا چونکہ ایمان مضبوط ہوتا ہے ان کا حکم دوسرے مومنوں سے الگ ہے لیکن یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ دونوں قسم کے لوگوں کا حکم ایک ہی لفظ میں بیان کر دیا۔دوسرے تراجم ) : " اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں۔کہدے جو بچے اپنے خرچ سے" (مولانا محمود حسن صاحب شیخ الهند ) اور تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔تم فرماؤ جو فاضل بیچے " (مولانا احمد رضا خان صاحب)