تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 73
تاریخ احمدیت۔جلد 28 73 سال 1972ء وو دغا بازی کی مجرم ہے۔ایک اور حدیث میں حضور نے اس دستوری مسئلے کو یوں بیان فرمایا ہے۔مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں پھر جب وہ ایسا کر دیں تو وہ مجھ سے اپنی جانیں بچالیں گے الا یہ کہ اسلام کے حق کی بنا پر ان سے تعریض کیا جائے اور ان کے باطن کا حساب اللہ کے ذقے ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اسلامی حکومت کے فرمانروا کی حیثیت سے ہے لہذا آپ کے بعد آپ کے نام پر جو حکومت بھی بنے گی، اس کا یہی قانون ہوگا یعنی وہ اگر کسی کو تحفظ کے اس حق سے محروم کرے گی تو حق الاسلام کی بنا پر کرے گی اور وہ لوگوں کے باطن کا حساب اپنے ہاتھ میں نہ لے گی بلکہ اللہ پر چھوڑ دے گی اس کا معاملہ لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہری اعمال کے لحاظ سے ہوگا وہ یہ نہیں دیکھتی پھرے گی کہ کون کیا سوچ رہا ہے کیا کرنا چاہتا ہے اور کیا کرنے والا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا فان دماء کم و اموالکم و اعراضکم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا۔تمہاری جانیں، تمہارے مال، تمہاری آبرو ئیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کا دن۔یہ الفاظ قیامت تک کے لئے اسلامی حکومت کی رعایا کے بنیادی حقوق کا چارٹر ہیں۔61 صدق جدید کا ایک بے لاگ تبصرہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن وحدیث میں چودہ سو سال قبل مسلم کی واضح تعریف موجود ہے تو پھر علماء اسے چھوڑ کر ایک نئی تعریف کی دریافت و تلاش میں کیوں سرگرداں پھر رہے تھے؟ اس کا جواب ایک غیر جانبدار ہندی مبصر کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے جو رسالہ ”صدق جدید لکھنو مورخہ ۶ دسمبر ۱۹۵۷ء میں اشاعت پذیر ہوا۔فرماتے ہیں:۔”بیشک لفظ مسلمان کی تعریف ضرور شائع ہونی چاہیے۔مگر اس کی تعریف علماء کرام ہی فرمائیں گے تو ہو گی۔اس کے صرف دو طریقے ہو سکتے ہیں اول یہ کہ جس فرقہ کو اسلام سے خارج کرنا یا اسے کافر قرار دینا ہو اسے پہلے سے ذہن میں محفوظ رکھیں اور پھر مسلمان کی کوئی ایسی تعریف نکالیں جس میں صرف وہی فرقے داخل ہو سکیں جن کو تعریف کرنے والے داخل کرنا چاہیں۔مگر یہ طریقہ اختیار کرنے سے علماء کو بڑا تکلف کرنا ہوگا۔پہلے سے مسلمان کی تعریف کئے بغیر یہ فیصلہ کر لینا